معاشرتی جرائم کے اسباب اور ان کا ممکنہ تدارک جرم کو کم کرنے کی تجویز؟

اگر معاشرے سے مجرمانہ سرگرمیوں کا خاتمہ کرنا ہے تو سب سے پہلے مجرمانہ سرگرمیوں کے محرکات معاشرے کے اندر ہی تلاش اور پھر اسکا قلع قمع کرنا ضروری ہے، کیونکہ جرائم پیشہ عناصر اسی معاشرے کے افراد اور اجزاء ہیں، معاشرے کا حال یہ ہے کہ آج اس شخص جس میں مجرمانہ صلاحتیں کوٹ کوٹ کر بھری ہیں،اور جو جرم کے بعد بچ نکلتا ہے معاشرے کا کامیاب فرد سمجھاجارہا ہے، اس طرز عمل بلکہ اجتماعی قومی بے حسی نے مجرمانہ سرگرمیوں کے فرع میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس سوچ اور اجتماعی غلطی کی حوصلہ شکنی بد عنوانی اور مجرمانہ سر گرمیوں کے خاتمہ کیلئے از حد ضروری ہے۔

موجودہ دور میں جرائم ایک عام معمول اور معاشر یکا جزو لازم بن گیا ہے۔،وہ جرائم خواہ اخلاقی ہوں یا جنسی طور پر ہو یا لوٹ مار،قتل اور ڈکیتی سے متعلق ہو،یاعلاقائی اور شہروں کی سطح پر ہو، یا ملکی اور بین الاقوامی جرائم ہوں،اس کی زد سے نہ انفرادی زندگی مخفوظ ہے نہ اجتماعی،آج پورے عالم میں جرائم اوربد اخلاقی کا تناسب بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے، آج ہمارے معاشرے میں جرائم کی کثرت کا جو عالم ہے، وہ کسی بیان اور وضاحت کا مختاج نہیں،ایسا لگتا ہے گویا پورا معاشرہ جرائم کی لپیٹ میں آنے لگا ہے۔

معاشرہ جرائم کی زد میں، ملکی اور بین الاقوامی جرائم کوئی بے روزگاری وجہ قرار دیتا ہے۔ کوئی کہتاہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث معاشرہ جرائم کی زد میں ہے،کوئی سیکیورٹی کے صحیح انتظامات نہ ہونے کو اس کا اصل سبب گردانتاہے۔

بہر حال ان ناگفتہ بہ حالات کے ظاہری اسباب کچھ بھی ہوں اور مذکورہ چیزیں بھی جزوی طور پر کثرت جرائم کے وقوع کے اسباب ضرور ہیں۔ لیکن کلی طور پر صرف ان ہی جیزوں کو جرائم کے لیے اصلی سبب کہنے سے شاید ہمارے تجزیے نامکمل رہ جائیں، کیونکہ اگر صرف یہی چیزیں جرائم میں اضافہ کا سبب ہوتیں تو پھر ان ممالک میں جرائم کا ارتکاب ہر گز نہ ہوتا، جہاں نہ بے روزگاری ہے نہ نطم و ضبط کا کوئی تغیر ہے،جہاں مجرم قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتا، اس کے باوجود بھی اگر وہاں جرائم کی سالانہ رپوٹ ملاحظہ کی جائے تو انسانیت کانپ اٹھتی ہے،حال ہی میں مغرب میں جرائم کی شرح کے بارے میں سالانہ رپوٹ شائع ہوئی ہے، اس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ جرائم امریکہ ہی میں ہوتے ہیں۔

 اگر معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم نہ رہے تو معاشرے میں عدل نا پیدہو جاتا ہے۔ جرائم کا پھیلاؤ عام ہوجاتاہے۔ عوام بدحالی اور نا انصافی کاشکار ہوجاتی ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں میں احساس اور ذمہ داری کا خیال نہیں رہتا معاشرہ ذلت و رسوائی کی علامت بن جاتا ہے۔ بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔آج بڑھتے ہوئے جرائم کے نوجوان نسل پر جس قدر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ شرح خواندگی کا بہت کم اور ہماری عملی تربیت کا اسلامی طرز زندگی کے اصولوں کے عین مطابق نہ ہونا ہے۔ اسلام میں ملت کی بقاء کیلئے معاشرے کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اس کیلئے اسلام نے قوانین بھی واضع کئے ہیں۔

ان پر عمل پیرا ہوکر ہم مسلمان اپنی زندگیوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔  اصلاحی تجاویز یہ ہیں معاشرے سے مجرمانہ سرگرمیوں کو کم کرنے کی تجویز یہ ہیں

سب سے پہلے ہمیں ملک کے سیاست دانوں کا قبلہ درست کرنا ہوگا جو اپنے اقتدار کی ہوس کی خاطر ہر دور میں پولیس محکمے کو استعمال کرتے ہیں اور پھر پولیس والے ان سیاستدانوں کے حکمران بنتے ہی ان کے بل بوتے پر وہ کرپشن ظلم و زیادتی اور بدمعاشی کی انتہا کر دیتے ہیں اس وقت ہمارے جتنے بھی جرائم ہو رہے ہیں ان سب کو بڑھاوا دینے میں پولیس کا بھرپور ہاتھ شامل ہے کیونکہ بعض پولیس والے شرفا سے دوستی رکھنے کی بجائے جرائم پیشہ افراد کے ساتھ زیادہ تعلقات رکھتے ہیں۔ اسلئے ضروری ہے کہ محکمہ پولیس اور ان کے سرپرست سیاستدانوں کا قبلہ درست کر دیا جائے تو یقین جانیں یہ ملک بھی اس جرائم سے پاک ہو سکتا ہے۔

مگر افسوس کہ ہم نے اسلام سے دوری اختیار کی۔ جس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں کہ جھوٹ، قتل و غارت، فریب اور چوری، رشوت خوری، سود اور شراب نوشی اور دوسروں کی حق تلفی جیسی برائیاں جنم لے چکی ہیں۔ اور افسوس صد افسوس کہ حکومت ان جرائم کی روک تھام کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات عمل میں نہیں لا رہی۔بڑھتی ہوئی قتل و غارت گری نے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو انا کا مسئلہ بناکر رد عمل ظاہر کیا جاتا ہے جو ہنگامی صورتحال کو جنم دے رہی ہیں۔ آج اسلامی تعلیمات سے دوری نے ہمارے ذہنوں کو اس قدر مفلوج کردیا ہے۔ کہ حلال حرام، سچ اور جھوٹ، کی تمیز نہیں رہی اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو کر دیگر جرائم میں ملوث ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرہ تباہی کی نظر ہو چکا ہے۔ کرپشن اور لوٹ مارنے معاشرے کی دھچیاں اڑا دی ہیں۔ ہر فرد زندگی کے آسائشوں کو ڈھونڈنے کیلئے کرپشن میں ملوث ہو رہا ہے۔ اسی طرح نشے جیسی بد ترین برائی بھی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔بہت سے لوگ ذہنی سکون حاصل کرنے کیلئے نشہ کی لعنت میں مبتلا ہیں۔ جوکہ غیر اخلاقی جرم ہے اور معاشرے میں بگاڑ کا سبب بھی۔ دین اسلام سے دوری نے صحیح اور غلط میں پہچان ختم کردی ہے۔ معاشرے میں تعلیم کا فقدان اور بہترین آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے واقعات جنم لے رہے ہیں۔ آج ہم جس قدر معاشرتی برائیوں میں گھر کر انسانیت کی درجہ بندی سے گر گئے ہیں۔ ہمیں اپنی سوچ کو بدلنے کی اور عملاً اسلامی قوانین پر عمل پیرا ہو کر اسلام کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے،جس طرح ہر چیز کے پیدا ہونے کے جواز ہوتے ہیں اسی طرح جرائم کے پیدا ہونے کے بہت سے اسباب ہیں


0 Comments

Leave a Reply

Avatar placeholder

Your email address will not be published. Required fields are marked *