اللّہ اس قوم کی حالت نہں بدلتا جب تک کہ وہ خود اُسے نہ بدلے جو ان کے دلوں میں ہے ۔ اللّٰہ ربّ کریم جب کسی قوم کے لیئے سزا کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ قومیں بدلا نہیں کرتے ۔ اور سوائے اللّٰہ رب العالمین کے کوئی بھی ان کا کار ساز نہیں ۔

اگر معاشرہ اخلااقیات کے معاملے میں زوال پزیر ہو اور بگڑ جائے تو وہاں جرئم لازماً ہوں گے یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کا انکار کوئی اہل علم اور اہل عقل نہیں کر سکتا ہے ۔

وہ تمام کام جو کہ اخلاقی گراوٹ سے بھر پور ہوں اسلامی قانون میں اسے گناة کہتے ہیں اور ان میں چوں کہ کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی ہے ۔ لہزا اس میں تعزیر واجب ہو نی چاہیئے ۔

جدید دور میں اخلاقیات ناپید ہوتی جا رہی ہے ۔ اور جو اخلاق مند ہوتا ہے معاشرہ اسے بیوقوف سمجھنے لگتا ہے ۔ اور اگر غلطی سے کوئی شریف آدمی الیکشن میں حصہ لیکر عوام کی صحیح معنیٰ میں خدمت کرنا چاہتا ہے ۔ تو اس شریف آدمی کے اپنے دوست یار اور دیگر رشتہ دار اس کو ووٹ نہیں دیتے ۔ ووٹروں کا کہنا اور ماننا یہ ہے کہ شریف آدمی کا کام صرف مسجد میں نماز پڑھنا اور پڑھانا ہے ۔ اس کا الیکشن میں کیا کام اور اگر شریف آدمی کے چہرے پر داڑھی ہے اور سر پر ٹوپی تب تو اس پر یہ اسٹمپ لگ گیا کہ یہ آدمی سیاسی یا سماجی خدمت کے کام کا نہیں ۔ بلکہ معاشرے کے کسی کام کا نہیں ہے ۔ یہ ہے معیار لوگوں کے سوچ کا ۔

عوام کرپٹیڈ لوگوں کو پسند کرتے ہیں ۔ اس لیئے شرافت کی کوئی قدر قیمت نہیں ہے اس زوال پزیر معاشرے میں ۔ اسی لیئے معاشرے میں جرائم کرائم ۔ چوڑ بازاری ۔ جھوٹ ۔فریب دھوکہ دہی ۔ زخیرہ اندوزی ۔ ملاوٹ ۔ چوڑی اور ڈاکہ الغرز ہر قسم کا کرپشن عام ہوتا جارہا ہے ۔ اس معاشرے میں کرپشن کو برا نہیں سمجھا جارہا ہے ۔ عوام اور سیاست دان دونوں ایک ہی ، پیج پر ہیں ۔ اسی لیئے جیسے عوام ویسے حکمراں ۔ یہ اللّٰہ کا نظام ہے ۔

اسلام میں اخلاقی گراوٹ کو جرائم کا سبب قرار دیا گیا ہے

گناة کی زیادتی سے انسان کا ضمیر مر جاتا ہے ۔ اچھے اور بُرے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے ۔ اور انسان خود فریبی میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ کہ میں تو سب سے زیادہ اسمارٹ ہوں ۔ تبھی نا میرے پاس سب کچھ ہے ۔

دراصل بداخلاقی جرائم کی ماں ہے ۔ جب انسان کی سوچ میں حرام کا پیسہ اور طاقت کا نشہ آجائے تو وہ معاشرہ عدم مساوات کا شکار ہو جاتا ہے ۔کیوں کہ اس کے پاس جو دولت اور طاقت آئی ہے ۔ وہ دولت اور طاقت عوام کا ہے ۔ عوام سے ہے ۔ عوام کے لیئے ہے ۔ عوام کو بیوقوف بناکر وہ امیر بن گیا اور عوام غریب ۔اس طرح عوام اور ملک غریب ہو گیا اور سیاست دان اور سرمایہ دار امیر ہو جاتے ہیں ۔ اور وہ جرائم و کرائم کو اپنا حق سمجھ نے لگتے ہیں ۔

اس کا علاج ایک ہی نظام زندگی میں ہے ۔ اسلامی نظام جہاں ہر شخص جواب دے ہے ۔کوئی کسی سے بڑا نہیں ، اور نہ کوئی کسی سے چھوٹا ہے ۔ ہر شخص کی اپنی اپنی اپنی زمہ داری ہے ۔جس کا وہ اللّٰہ پاک کے آگے بھی جواب دے ہے اور اللّٰہ کے بندوں کے آگے بھی جواب دے ہے ۔ اور اپنے اداروں کے آگے بھی جواب دے ہے ۔

اسی لیئے سرمایہ دار طبقہ اور سیاست دان اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ عوام اور ملک کے تمام وسائل پر ان کا قبضہ ہے ۔ وہ ان وسائل کو اسلامی نظام کے خلاف استعمال کرتے رہتے ہیں ۔

اخلاق کو بہتر کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے ۔ کہ ایک اللّٰہ کی عبادت کرو اور رسول ﷺ کی سیرت کو اپنا لو ۔ مسلہ حل ہوگیا ۔ ان شاء اللّٰہ تعلیٰ ۔


0 Comments

Leave a Reply

Avatar placeholder

Your email address will not be published. Required fields are marked *