ہم میں سے کوئی بھی اللّہ تعالیٰ کی عبادت کا حق پوری طرح ادا نہیں کر سکتا۔ اسی لیے ایک مومن ہمیشہ اپنے رب کے سامنے جھکتا ہے، اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتا ہے۔ اور استغفار کرتا رہتا ہے۔جب عبادت میں کمی رہ جائے تو اللّہ سے معافی مانگیں۔ جب گناہ سرزد ہو جائیں تو فوراً توبہ کریں۔جب نیک اعمال کریں تو ان کی قبولیت کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں، کیونکہ ہمیں اپنے عمل پر نہیں، بلکہ اللہ کی رحمت پر بھروسہ ہونا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کو اپنے وہ بندے بہت پسند ہیں جو بار بار اس کی طرف رجوع کرتے ہیں، اپنی غلطیوں پر نادم ہوتے ہیں، اور اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتے۔استغفار صرف گناہوں کی معافی کا ذریعہ نہیں، بلکہ دل کا سکون، رزق میں برکت، مشکلات میں آسانی اور اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔۔۔

استغفر اللّہ العظیم الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم و اتوب الیہ،،۔🤲🏻

✨ اپنی غلطی کو جاننے پہچاننےکی کوشش کریں (Ego)

اپنی غلطی کو ماننا کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ اس سے انسان میں سمجھداری، سچی ہمت، اور حالات کو بہتر بنانے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ غلطی تسلیم کرنے سے انا ختم ہوتی ہے، اور انسان روزمرہ زندگی میں بہترین فیصلے کر سکتا ہے۔

غلطی کو جاننے اور پہچاننے کے چند آسان طریقے درج ذیل ہیں:۔

  • اعتراف کریں: غلطی پر بحث کرنے یا بہانے بنانے کے بجائے اسے کھلے دل سے تسلیم کریں۔
  • انا کو دور رکھیں: جب کوئی آپ کی غلطی بتائے تو ناراض ہونے کے بجائے اسے سیکھنے کا موقع سمجھیں۔
  • وجہ جانیں: سوچیں کہ یہ غلطی کیوں اور کیسے ہوئی تاکہ دوبارہ نہ ہو۔
  • نقصان کا جائزہ لیں: دیکھیں کہ اس سے آپ کو یا دوسروں کو کیا نقصان پہنچا اور اسے کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

اس موضوع پر لوگوں کے کچھ تجربات یہ ہیں:۔

خیالات غلطیوں کے اعتراف پر

ہما انصاری بتاتی ہیں کہ اپنی غلطی کا مان لینا ایک بہت اچھی خوبی ہے۔

”جب تک ہمیں اپنے غلطی کا احساس نہیں ہوگا ہم غلطیوں پر غلطیاں کرتے رہیں گے اور دوسروں کے ساتھ خود کی نظروں میں بھی گرتے رہیں گے۔ اپنی غلطیوں سے سیکھ حاصل کرنے ہی سے ہم زندگی میں آگے بڑھ سکیں گے

ماہرین کا ماننا ہے کہ غلطی کو تسلیم کرنا اصل عظمت ہے۔

انسان سے غلطی ہونا فطری بات ہے لیکن اصل عظمت اپنی غلطی کو تسلیم کرنے میں ہے۔

کیا آپ کو اپنی زندگی یا کام میں کوئی خاص فیصلہ کرنا مشکل لگ رہا ہے جس پر آپ بات کرنا اور سمجھنا چاہتے ہیں؟

غلطی کا اعتراف اعلی شخصیت کی پختگی کی پہچان۔ غلطی ہونا فطری بات ہے، فلطی پر ڈٹ جانا جہالت اور ناکامی کی علامت ہے۔

وہ کون ہے جو غلطی تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے؟

غلط انسان وہ نہیں جو غلطی کرے، بلکہ وہ ہے جو اپنی غلطی تسلیم کرنے سے انکار کرے اور اسے دہراتا رہے۔ *غلط انسان وہ ہوتا ہے جو دوسروں کو نقصان جان بوجھ کر پہچاے۔

طی کا مطلب کسی کام میں کوئی کوتاہی کر دینا کوئی کام سہی طریقے سے نہ کرنا۔ غلطی ایک دلدل کی مانند ہوتی ہے اگر ہم دلدل کو کیچڑ سمجھیں گے تو اُس میں غرق ہوجایں گے۔

غلطی کیا ہے؟

بے بسی کے جذبات کو جنم دیتی ہے، چار چیزیں ریکارڈ کریں: محرک (کیا ہوا)، سوچ (آپ نے خود سے کیا کہا)، رویہ آپ نے کیا کیا یا نہیں کیا، اور نتیجہ کیا نتیجہ نکلا۔

غلطی ایک ایسا کام ہے جو درست نہ ہو۔ اسے چوک، بھول، یا خامی بھی کہتے ہیں۔ جب کوئی بات یا حساب حقیقت کے خلاف ہو، تو اسے غلطی مانا جاتا ہے۔

حسابی غلطی

یہ اعداد یا گنتی میں ہونے والی کمی بیشی ہے۔

  • مثال: دو اور دو چار (2 + 2 = 4) ہوتے ہیں。 اگر کوئی اسے پانچ (5) لکھے، تو یہ ایک حسابی غلطی ہے۔

زبانی یا تحریری غلطی

یہ الفاظ کے بولنے یا لکھنے میں ہوتی ہے۔

  • مثال: جملے میں “میں سکول جاتا ہوں” کی جگہ “میں سکول جاتی ہوں” لکھنا (جب بولنے والا مرد ہو)۔

ٹکنیکی غلطی

یہ مشینوں یا کمپیوٹر کے کام میں رکاوٹ کو کہتے ہیں۔

  • مثال: انٹرنیٹ کی رفتار کا کم ہونا یا فون میں کوئی مسئلہ آنا۔

”اپنی خود پسندی کی حفاظت میں آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ غلطی کا اعتراف نہیں کرت

خَطاء اور غلطی میں یقینی فرق ہے ، لیکن عموماً ہماری اُردُو میں تقریباً ایک ہی معنی میں اِستعمال کر دِیے جاتے ہیں۔

Categories: Uncategorized

0 Comments

Leave a Reply

Avatar placeholder

Your email address will not be published. Required fields are marked *