اللہ کے دروازے پر ثابت قدم رہیں
✍🏻 امام فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“میں نے صبر ایک چھوٹے بچے سے سیکھا۔
ایک مرتبہ میں مسجد کی طرف جا رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت اپنے بچے کو مار رہی تھی۔ بچہ روتا ہوا گھر سے بھاگ نکلا، تو اس کی ماں نے دروازہ بند کر دیا۔
میں واپس آیا تو دیکھا کہ وہ بچہ کچھ دیر رونے کے بعد دروازے کی چوکھٹ پر ہی سو گیا تھا، گویا اپنی ماں کی شفقت کا انتظار کر رہا ہو۔
آخرکار ماں کا دل پسیج گیا، اس نے دروازہ کھولا اور بچے کو اندر لے لیا۔”
یہ منظر دیکھ کر امام فضیل بن عیاض رحمہ اللہ اتنا روئے کہ ان کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی، پھر فرمایا:
“سبحان اللہ! اگر بندہ اللہ تعالیٰ کے دروازے پر صبر اور ثابت قدمی سے ڈٹا رہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دیتا ہے۔”
پھر حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا:
“دعاؤں میں خوب محنت کرو، کیونکہ جو شخص کسی دروازے پر بار بار دستک دیتا رہتا ہے، قریب ہے کہ اس کے لیے وہ دروازہ کھول دیا جائے۔”
📚 مصنف ابن أبي شيبة (6/22)
فوائد و اسباق:
اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے جلد مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
صبر اور ثابت قدمی اللہ کی رحمت کے دروازے کھولنے کا ذریعہ ہیں۔
بندہ جب بار بار اللہ سے مانگتا ہے تو یہ اس کی عاجزی اور اعتماد کی علامت ہے۔
دنیا کے دروازے بند ہو جائیں تو بھی اللہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے؛ اس لیے اسی سے امید وابستہ رکھنی چاہیے۔
0 Comments