قانون کا بنیادی مقصدعوام کو انصاف کی فراہمی ⚖️؟ ⚖️
قانون کا بنیادی مقصد معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام، امن و امان برقرار رکھنا، اور شہریوں کے حقوق، جان و مال کا تحفظ کرنا ہے۔ ملک و معاشرے سے ظلم و جبر کا خاتمہ کر کے ایک منظم اور مہذب معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔
قانون کے بنیادی مقاصد کی تفصیل:۔
قانون کا مقصد عوام کو انصاف کی فراہمی، ملک میں امن و آمان کی بحالی، انسانی حقوق کا تحفظ، معاشرتی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا، ہر قسم کی تنازعات کا قانونی حل۔
- عوام کو انصاف کی فراہمی:– مظلوم کو حق دلانا اور بے گناہ کو سزا سے بچانا۔
- قانون کا مقصدملک و معاشرے میں نظم و ضبط قائم رکھنا۔
- انسانی حقوق کا تحفظ:– ہر شخص کے جائز حقوق، آزادی اور ملکیت کی حفاظت کرنا۔
- معاشرتی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا:– انصاف پر مبنی قوانین کے ذریعے معاشرے کو ظلم و درندگی سے بچانا۔
- ہر قسم کی تنازعات کا قانونی حل:– افراد کے درمیان مسائل کو پرامن طریقے سے قانونی دائرے میں حل کرن
مختصراً، قانون ایک ایسا فریم ورک ہے جو انسانی معاشرے کو پرامن، متوازن اور انصاف پر مبنی رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
قانون کا بنیادی مقصد معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنا اور انسانی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ یہ افراد کے درمیان تنازعات کو ختم کرنے اور ایک منظم سماج کی تشکیل کے لیے ضابطے فراہم کرتا ہے۔
⚖️ اہم مقاصد
- امن و امان کا قیام: معاشرے کو انتشار سے بچانا اور سکون فراہم کرنا۔
- حقوق کا تحفظ: ہر شہری کے جائز حقوق اور آزادیوں کی نگہبانی کرنا۔
- ظلم کا خاتمہ: کمزوروں کو طاقتور کے ظلم سے بچانا اور برابری پیدا کرنا۔
- معاشرتی نظم و ضبط: اجتماعی رویوں کو ضابطوں کے ذریعے منظم کرنا۔
- انصاف کی فراہمی: ملزم کو صفائی کا موقع دینا اور بے گناہ کو سزا سے بچانا۔
🛡️ قانون کی اہمیت
قانون کے بغیر کوئی بھی معاشرہ “جنگل کے قانون” میں تبدیل ہو سکتا ہے، جہاں صرف طاقتور کی حکمرانی ہوتی ہے۔ اس لیے ہمارے مطابق، یہ وہ نظام ہے جو کسی بھی ریاست کو چلانے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا۔
خاص قسم کے قانون جیسے اسلامی، بین الاقوامی قانون، تعزیری اور فوجداری قانون کے مقاصد۔
قانون کا اہم ترین بنیادی مقصد!؟
قانون کا اہم ترین مقصد:-ملک و معاشرے میں عدل و انصاف کو بروئے کارلانا اور انسانیت کو ظلم و جبر اور درندگی کے چنگل سے نجات دلانا ہوتا ہے۔ لیکن اگر خود قانون درندگی کی آماجگاہ و شلٹر بن جائے؟ قانون ساز اداروں پر ظلم و بربریت اور کریمنل پیشہ ور درندوں کا تسلط قائم ہوجائے؟ وہ اپنی زاتی مفاد اور کرپشن کو چھّپانے کے لیے قانون بنانے قانون سازی کرنے لگیں۔ تاکہ اُن کا کرپشن چھوپا رہے۔
مجمآنہ نیت کے ساتھ قانون سازی
اور خودغرض آنا اور کریمنل خواہشات کے مطابق اندھا دھند قانون سازی کرنے لگیں تو ظاہر ہے کہ قانون مظلوموں کی حفاظت اور عدل و انصاف کی فراہمی کے بجائے ظلم اور ظالم کا ساتھ دینے والے بن جایں۔
عدل و انصاف کا مفہوم؟
اس خطرہ سے بچنے کے لیے ضرورت ہے کہ ’’عدل و انصاف‘‘ کا مفہوم متعین کیا جائے۔ اور اُسے ظلم ظالم کی چالوں سے ممتاز کیا جائے۔ ملک و معاشرے کے معصوم عوام کے ساتھ عدل کیا جائے۔
ظلم کسے کہتے ہیں؟ یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس کے بغیر قانون کا سارا دفتر لغویت فساد کا پلندہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اور ہمیں یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ دنیا کے اعلیٰ ترین مفکر اور ماہرینِ قانون عدل و انصاف کا ایسا مفہوم متعین کرنے سے عاجز ہیں۔ جو عوام و خواص کے لیے قابل قبول ہو۔
عدل تمام انسانیت کے لیے۔
عدل ایسا جو تمام انسانیت کے لیے یکساں انصاف فراہم کر سکے۔ جو شخص یہ نہیں جان سکتا کہ عدل کیا ہے؟ آخر کس اصول سے اُسے قانون سازی کا حق حاصل ہے؟
رحمان و رحیم کا عدل اٹل ہے
اللّہ تعالیٰ ہی کی ذات ایک ایسی ہے جس کا علم کائنات کے ذرہ ذرہ پر محیط ہے اور جس کی رحمت ساری انسانیت بلکہ کائنات کے لیے عام ہے۔ وہ رحمان ہے۔ انسانوں کے کسی خاص گروہ سے اس کا مفاد وابستہ نہیں ہے۔ اللّہ ہی تمام مخلوق کے لیے عدل کا ٹھیک ٹھیک مفہوم متعین کرسکتا ہے۔ اور اسی کا نازل کردہ قانون، قانونِ عدل، کہلانے کا مستحق ہے۔
قانون الٰہی کا عبدی عدل
قانونِ الٰہی کے سوا دنیا کے خود تراشہ ہوا قانون نہ عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرسکتا ہے۔ نہ انسانیت کو ظلم وستم کے آہنی شلنجے سے پنجے سے نجات دلاسکتا ہے۔
فرمان الہی ہے۔ سورۃ الحدید آیت نمبر 25۔
اللّہ پاک کا ارشاد ہے:- ’’لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ‘‘۔ (الحدید:25) ترجمہ:…’’ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلے کھلے احکام دے کر بھیجا اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب کو اور انصاف کے ترازو کو نازل کیا، تاکہ لوگ اعتدال پر قائم رہیں۔
یقیناً ہم نے اپنے رسولوں کو کھلی نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔
جرم اور سزا کا رشتہ
جرم اور سزا کے درمیان وہی رشتہ ہے جو مرض اور دوا کے درمیان رشتہ ہے۔ جرم اور سزا کا رشتہ انسانی معاشرے کے قیام، امن و امان اور انصاف کی فراہمی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا تعلق ہے جہاں ایک منفی فعل جرم کے نتیجے میں قانون یا اخلاقی اصولوں کے تحت ایک منفی ردعمل (سزا) سامنے آتا ہے۔
یہاں جرم اور سزا کے رشتے کے اہم پہلو ہیں:۔
سماجی ذمہ داری: تاریخی طور پر، سزا کا تعلق صرف فرد سے ہوتا ہے، نہ کہ پورے قبیلے یا خاندان سے، جیسا کہ دورِ جاہلیت میں رواج تھا۔
انصاف اور توازن:– سزا کا بنیادی مقصد معاشرے میں توازن برقرار رکھنا ہے۔ قانون کے تحت، ہر جرم کی نوعیت کے مطابق اس کی سزا مقرر کی جاتی ہے، جسے “جرم اور سزا کا تناسب” کہا جاتا ہے۔
(Deterrence)روک تھام (Rehabilitation) اصلاح
روک تھام :– سزا کا مقصد نہ صرف مجرم کو اس کے فعل کی سزا دینا ہے، بلکہ دوسروں کو بھی ایسا جرم کرنے سے روکنا ہے۔
اصلاح : جدید قانونی نظام میں سزا کا مقصد مجرم کو سزا دے کر اسے ایک بہتر انسان بنانا بھی ہے، تاکہ وہ دوبارہ جرم نہ کرے۔
اسلامی تصور:– اسلام میں جرم و سزا کا ایک منظم نظام ہے، جو فرد اور معاشرے دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اس میں جرم کی نوعیت کے لحاظ سے حد (مقررہ سزا) یا تعزیر (عدالت کی صوابدید) کا نظام ہے۔
خلاصہ کلام
جرم اور سزا کا رشتہ معاشرے کو بدنظمی سے بچانے کا ایک قانونی اور اخلاقی ذریعہ ہے، جو قانون کی حکمرانی اور مظلوم کو انصاف فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔
جرم یا سزا کی مزید تفصیل
جرائم انسانیت کے سب سے بڑے امراض ہیں اور قانون کے ذریعہ ان امراض کا علاج کیا جاتا ہے۔ قانون کا سب سے مشکل مرحلہ جرم اور سزا کے درمیان توازن کا قائم کرنا ہے اور ایسی ترازو دنیا کے کسی کارخانے میں تیار نہیں ہوتی، جس
جرم و سزا کا وزن
جرم کے آثار ونتائج کا وزن کرکے اس کے ہم وزن سزا تجویز کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے قانون کی تمام ترد راز دستیوں کے باوجود اس نام و نہاد مہذب دنیا میں گھناؤ نے جرائم کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی جارہی ہے۔ جب تک دنیا اس انبیائی میزان یعنی شرَیعی قانونی نظام کے مطابق جرم و سزا کا موازنہ نہیں کرتی۔ اُس وقت تک انسانیت پر جنگل کا قانون نافذ و مسلط رہے گا۔ انسانیت ظلم وعدوان کے پنجے میں سسکتی بلکتی چیختی رہے گی۔
شرعی نظام سزا
میزانِ نبوت:- یہ نظام ہمیں بتاتی ہے کہ زنا جیسا جرم اپنے اندر بدبودار تعفن اور گندگی کی کتنی وزنی مقدار رکھتا ہے۔ اس جرم کا علاج کتنے پتھروں یا کوڑوں سے ہونا چاہیے۔ کسی کے مال و اسباب پر ناجائز قبضہ کرنا کتنا بڑا معاشرتی جرم ہے۔ اس جرم کی سزا صرف ہاتھ کاٹنے سے ہوسکتا ہے۔
دنیاوی اور دینی نظام سزا کا قانون
جو نظام قانون قتل کا علاج اتنے کتنے سال کی قید و جرمانے سے کرتا ہے اور چوری اور ڈکیتی کا علاج اتنے اتنےسال کی قید سے کرتا ہے۔ وہ قانون ساز نہیں ہوسکتا ہے بلکہ انسانیت کا قاتل بن جاتا ہے۔
جیل جرائم کی پرورش گاہ بن چکی ہے
جیل اور جرائم:– آج مہذب دنیا کے جیل خانے جرائم کی پرورش اور تربیت گاہ بن کر رہ گئے ہیں۔ مجرم جب سزا کاٹ کر واپس آتا ہے، تو مرضِ جرم سے شفایاب ہوکر نہیں نکلتے، بلکہ عادی مجرم بن کر نکلتے ہیں۔ الا ما شاء ﷲ! ۔
اٹل افاقی قانون
اللّہ تعالیٰ جل شانہٗ کا کامل و مکمل آخری قانون خدائے برتر کا آخری قانون اپنی جامع اور کامل ترین صورت میں حضرت خاتم النبیین محمد رسول اﷲ نے قرآن و حدیث کی صورت میں ہمارے پاس چھوڑ گئیے ہیں۔
اسلامی نظام قانون کی برکات
اسلامی قانون نے انسانیت کے لیے عدل و انصاف، مودت ورحمت، ہمدردی وخیر خواہی، اُخوت و مواسات اور سکون و اطمینان کی وہ فضا پیدا کی ہے۔ جس کی مثال چشم فلک نے کبھی نہ دیکھی تھی۔ یہ ایک ایسا خود کار آفاقی قانونی نظام ہے جس کی بدولت اول تو جرائم کی تعداد گھٹتے گھٹتے صفر کے نقطہ تک پہنچ گئی تھی۔ اور کبھی سہوت اور بشریی کمزوری کی بنا پر اگر کوئی جرم کسی سے صادر ہو جائے تو مجرم خود ہی طَہِّرْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!‘‘ یعنی یا رسول اللّہ! مجھے سزا دے کر پاک کردیجئے! کی گزارش کرتے ہوئے عدالت کے کٹہرے میں حاضر ہوجاتا ہے۔ کہ مجھے سزا دو میں نے جرم کیا ہے۔
اسلامی ایمانی آفاقی قانون
جب تک عدالتِ نبوت:- مجرم کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کر دیں اس وقت تک مجرم کی ضمیرکی خلش مجرم کو بے تاب کرتی رہتی ہے۔ ایمان کی حرارت اور محاسبۂ آخرت کی فکر مجرم کو مسلسل بے چین کیے رکھتی ہے۔ نہ کسی کو کسی سے شکایت، نہ کوئی طبقاتی مسئلہ، نہ کوئی اقتصادی الجھن، نہ کوئی سیاسی آویزش۔
اسلامی شریعت
اسلامی شریعت! جس نے دنیا کو عدل و انصاف سے منور کر دیا۔ محمد رسول اللّہ کا ارشاد مبارکہ ہے:- ’’قَدْ جِئْتُکُمْ بِالسَّمْحَۃِ الْبَیْضَائِ لَیْلُہَا وَنَہَارُہَا سَوَائٌ۔‘‘ (ابن ماجہ،ص:۲،ط:قدیمی) ترجمہ:- میں تمہارے پاس ایسی آسان اور روشن شریعت لایا ہوں، جس کے رات دن یکساں روشن ہیں۔
0 Comments