وہ نوجوان جس نے شیخ ابن باز رحمہ اللہ کو برا بھلا کہا، پھر رو پڑا
مسجد میں ایک علمی درس جاری تھا جس میں نمازیوں کا بڑا ہجوم موجود تھا۔ اسی دوران ایک نوجوان، جو فکری جوش اور شدت پسندی سے متاثر تھا، کھڑا ہوا اور بلند آواز میں درس کے دوران مداخلت کرتے ہوئے شیخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ کو سخت الفاظ میں برا بھلا کہنے لگا اور حاضرین کے سامنے ان پر مختلف الزامات لگانے لگا۔
شیخ کے طلبہ اور محافظ غصے میں آ گئے اور اسے پکڑ کر نکالنے کے لیے آگے بڑھے، مگر شیخ نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روک دیا اور فرمایا:
“اسے ہاتھ نہ لگاؤ، اسے بولنے دو، اسے چھوڑ دو تاکہ جو کچھ اس کے دل میں ہے وہ کہہ لے۔”
شیخ پوری خاموشی اور سکون کے ساتھ اس کی باتیں سنتے رہے، یہاں تک کہ نوجوان تھک کر خاموش ہو گیا۔
تب شیخ نے نہایت شفقت بھرے انداز میں اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
“میرے بیٹے! اگر میں واقعی ویسا ہی ہوں جیسا تم نے کہا ہے، تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے ہدایت دے اور میری مغفرت فرمائے۔ اور اگر میں ویسا نہیں ہوں جیسا تم نے کہا ہے، تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں معاف کرے اور تمہیں ہدایت عطا فرمائے۔ اللہ تمہیں تمہاری نصیحت کا بہترین بدلہ دے۔”
یہ جواب سن کر نوجوان حیرت زدہ رہ گیا۔ شیخ کی رحمت، حلم اور تواضع نے اس پر گہرا اثر ڈالا۔ وہ شدتِ ندامت سے رونے لگا، پھر لوگوں کی صفیں چیرتا ہوا آگے آیا اور شیخ کے سر اور ہاتھ کو بوسہ دے کر معافی مانگنے لگا۔
کہا جاتا ہے کہ اس واقعے کے بعد اس کی زندگی کا رخ بدل گیا اور وہ شیخ کے مخلص شاگردوں اور محبّین میں شامل ہو گیا، جو ان کے دروس میں باقاعدگی سے حاضر رہتے تھے۔
اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو اپنے مخالف کے لئے بھی نرم مزاج ہونا چاہیے
0 Comments