فوجداری جرم کا خاتمہ، تعزیر، حد، شریعت محمدیہ، جرم سزا گناہ کی معافی، مجرم کی موت سے دنیاوی قانون کی گرفت ختم ہو جاتی۔ مگر اللّہ کے قانون کا مسلہ الگ ہے۔
معاشرے سے جرائم و کرائم کا خاتمہ؟
تَعْزِیری سزا کیا ہے:- کسی گناہ پر بغرض تادیب تنبیہ جو سزا دی جاتی ہے اس کو تعزیر کہتے ہیں۔
شرعی اسلامی قانون نے جرم اور سزاء کا جو ضابطہ مقرر کیا ہے۔ اس میں سزائیں تین طرح کی ہوتی ہیں۔ بلترتیب حاضر ہے، نمبر 1- قانون کفارہ نمبر 2- حد کا قانون۔ نمبر 3- تعزیری قانون۔
غیر متعین تعزیری سزا؟
یہ وہ سزائیں جنھیں قرآن اور سنت رسول اللّہ نے متعین تو نہیں کیا مگر جن برے کاموں کی یہ سزائیں ہیں ان کو جرائم کرائم کی فہرست میں داخل کیا ہے اور سزا کے تعین کا مسئلہ مسلم حاکم یا حکومت سرکار گورنمنٹ کے سپرد کر دیا جاتا ہے تاکہ مسلم گورنمنٹ یا عدالت موقع ومحل اور ضرورت کے مطابق سزا خود متعین کریں گویا اس قسم کی سزاؤں میں حکومت کو قانون سازی کا حق بھی حاصل ہے مگر اس دائرہ کے اندر رہ کر جو شریعت اسلامیہ نے متعین کر رکھا ہے اس طرح کی سزا شریعت میں ” تعزیر ” کہلاتی ہے۔
تعزیر کی یہ صورتیں ہیں
تعزیر کی بعض صورتیں یہ ہیں:– مجرم کو قید کرنا، مجرم کو کوڑے مارنا، خطاکار کو گوشمالی کرنا بطور سزا کان مروڑنا، تنبیہ کرنا ڈانٹنا، ترش روئی سے سخت رویہ برتنا اور نفرت کے انداز سے اُس کی طرف غصہ کی نظر سے دیکھنا۔
اسلامی نظام تعزیرات کا قانون۔جرائم کے خاتمے کیلئے اسلامی قانونی نظام کا نفاذ ضروری ہے۔ اسلام کے تعزیری قوانین کا نفاذ ۔
حد اور تعزیر میں کیا فرق ہے؟
حد اور تعزیر میں بنیادی باریک فرق یہ ہے:- حد اور تعزیر میں بنیادی فرق یہ ہے کہ حد کو شریعت محمدیہ میں قید و بند اور عقوبت کی سزا کو کہتے ہیں۔ جو اللّہ کا حق قرار دی گئی ہے۔ اسی لیے حد کے قانون کو اللّہ کا حق کہا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے اس میں کوئی بندہ تصرف نہیں کر سکتا۔
تعزیری قانون؟
تعزیر کو حقِ اللّہ کا تو کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جج یا قاضی مجرم کی سزا میں کمی یا بیشی یا تصرف کر سکتا ہے۔ یعنی اگر جج کہیں کوئی مصلحت دیکھے۔ تو جج چاہے تو قابل تعزیر مجرم کو معاف بھی کر سکتا ہے۔ اور موقع ومحل اور جرم کی نوعیت کے اعتبار سے مجرم کی سزا میں کمی زیادتی اور تغیر و تبدیلی بھی کر سکتا ہے۔
حاصل یہ کہ حد کا قانون تو اللّہ تعلی کی طرف سے متعین ہے، فیکس ہے۔ یعنی حد کے قانون میں کوئی تصرف ممکن نہیں اُسی کو حد کا قانون کہتے ہیں۔
تعزیر کو حد نہیں کہا جاسکتا ہے
اور تعزیری قانون دینے کی سزا قاضی جج یا حکومت اور گورنمنٹ کے سپرد ہے۔ جج چاہے تو سزا میں کمی یا زیادتی کرسکتا ہے۔ اسی عدم تقدیر و تحقیق کی بنا پر تعزیر کو حد نہیں کہا جاتا۔ چونکہ ” قصاص” بھی بندہ کا حق ہے کہ وہ اپنے اختیار سے مجرم کو معاف کر سکتا ہے اس لیے اس کو بھی ” حد ” نہیں کہا جاتا۔
Criminal Justice System صرف سزا دینے سے جرم کا خاتمہ نہیں ہوتا
اسلامی قانون میں جرم کا خاتمہ صرف سزا دینے سے نہیں، بلکہ ایک ایسا جامع نظام قائم کرنے سے ہوتا ہے۔ جو گناہ اور جرم کی جڑوں کو معاشرے سے ختم کر دے، جرم اور گناہ کے اسباب کو ختم یا کم کردے۔ اسلامی نظامِ تعزیرات کا بنیادی مقصد معاشرے میں عدل و انصاف، امن و امان، اور انسانی حقوق جان، مال، عزت و آبرو، دین، عقل کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔
قانون کی نظر میں مجرم کے مرتے ہی اُس کے کئیے ہوئے تمام فوجداری جرم کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ اس طرح مرحوم مجرم کی سزا ختم ہوجاتی ہے۔
اسلامی قانون میں جرائم کے خاتمے کے لیے تین سطحی بنیادی منصوبہ بندی کی گئی ہے:۔
نمبر 1- افراد کی نفسیاتی اور اخلاقی تربیت اندرونی اور بیرونی کرئمنل سوچ اور فسادی سوچ و عمل کی روک تھا
- ایمان اور خوفِ خدا:– سب سے پہلے اسلام انسان کے دل و دماغ میں خدائے تعالیٰ اور آخرت کا یقین پیدا کرتا ہے، جس سے گناہ کا تصور ہی ختم ہو جاتا ہے۔
- تزکیہ نفس:– انسان کی پاکیزگی اور اخلاقی تربیت پر زور دیا جاتا ہے تاکہ وہ خود کو جرائم و کرائم سے دور رکھے
نمبر 2- سماجی اور اقتصادی عدل و انصاف انسانی بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کو ممکن بنایا جاتا ہے۔
- جائز ذرائع معاش:– ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا جہاں ہر انسان اپنی بنیادی ضروریات (روٹی، کپڑا، مکان) جائز طریقوں سے پوری کر سکے، تاکہ مجرمانہ وسائل اختیار نہ کرنے پڑیں۔
- زکوٰۃ و صدقات فطرات وغیرہ:-دولت کو چند ہاتھوں میں جمع ہونے سے روکنا اور مستحقین تک ان صدقات کو پہنچانا تاکہ غربت کی وجہ سے جرم نہ ہو۔
ان قوانین پر عمل کے زریعے جرم کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔(Hudood) حدود (Qisas) قصاص (Ta’zir) تعزیر
نمبر 3- حکومتی اور سرکاری مشینری اور سخت سزائیں بیرونی روک تھام
جب تربیت اور معاشی انصاف کے باوجود جرم ہو، تو اسلام سخت سزائیں تجویز کرتا ہے:۔
- حدود : یہ وہ سزائیں ہیں جو قرآن و سنت میں متعین ہیں، جیسے چوری پر ہاتھ کاٹنا، زنا پر کوڑے یا سنگسار، اور ڈکیتی کی سزا۔ ان کا مقصد معاشرے کو جرائم سے پاک کرنا ہے۔
- قصاص : قتل یا جسمانی نقصان کے بدلے بدلہ (جان کے بدلے جان)۔ یہ قانون زندگی کا تحفظ کرتا ہے۔
- تعزیر : وہ جرائم جن کی سزا قرآن و سنت میں مقرر نہیں، وہاں اسلامی ریاست حالات کے مطابق سزا (قید، جرمانہ، کوڑے) دے سکتی ہے، جس کا مقصد مجرم کی اصلاح اور جرائم کا سدباب ہے۔
خلاصہ کلام
اسلامی قانون میں جرائم کے خاتمے کا طریقہ کار تعزیرات اور حدود کے نفاذ کے ساتھ ساتھ ایک ایسے متوازن معاشرے کی تشکیل ہے جہاں جرم کرنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔
قانونی اور شرعی نقطہ نظر سے اس جملے کے دو پہلو ہیں:۔
نمبر 1- اس کے قانونی پہلو۔ Criminal Law + Criminal Case+ Abated + Criminal Justice System
فوجداری مقدمے کا خاتم:- ہاں قانون کی نظر میں مجرم کے مرتے ہی اس کے خلاف فوجداری مقدمہ ختم ہو جاتا ہے۔ چونکہ قانون مجرم کو ذاتی سزا (جیل یا پھانسی) دیتا ہے۔ اور مرنے کے بعد سزا نہیں دی جا سکتی، اسی لیے مجرم کو سزا کے طور پر ختم کر دیا جاتا ہے۔
Fine + Civil Case
استثنیٰ: اگر جرم میں جرمانہ شامل ہو، تو اس جرمانے کی وصولی کے لیے مقدمہ مجرم کے ورثاء اور اس کی جائیداد کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
سول کیس : اگر معاملہ دیوانی (جائیداد وغیرہ) ہو تو مجرم کی موت سے کیس ختم نہیں ہوتا، بلکہ اس کے وارث مقدمے میں فریق بن جاتے ہیں۔ اور بلآخر مجرم کے وارث مجرم کے جائداد کو بیچ کر جرمانہ ادا کریں گے۔
۲. اخلاقی اور شرعی پہلو (Moral/Shariah Law)
مرنے سے جرم کی سزا دنیا میں ختم ہو جاتی ہے، لیکن جرم گناہ ختم نہیں ہوتا۔
- حقوق العباد: اگر جرم کسی انسان کے حق سے متعلق ہو (جیسے قتل، چوری، غیبت)، تو وہ معاف نہیں ہوتا جب تک مقتول کے ورثاء معاف نہ کریں یا مرنے والا توبہ نہ کر لے۔ آخرت میں اس کا حساب ہوگا۔
- توبہ: اگر مجرم نے مرنے سے پہلے اپنے گناہ پر سچی توبہ کر لی، تو اللہ کے ہاں جرم معاف ہو سکتا ہے
قاتل کی سزا جاری ہوجانے سے گناہ کی معافی کا حکم
سوال و جواب؟
اگر کسی سے کوئی قتل ہو جائے اور عدالت مجرم کو سزائے موت دے چکی ہو تو مجرم کے گناہ باقی رہتا ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ اسلامی شرعی حدود جرم کی سزا کے لیے اللّہ پاک نے بنائی ہے۔ اور عام گناہ کی معافی کے لیے توبہ ضروری ہے۔ لہذا جس شخص کو قتل کے جرم میں سزائے موت ہوچکی ہو تو اس پر بھی اپنے کئے ہوئے قتل کے گناہ پر نادم ہوکر توبہ کرنا ضروری ہے۔ اگر سزا کے نفاذ کے وقت اپنے فعل پر نادم ہونے کی وجہ سے توبہ کرلی ہے تو اُمد کی جاتی ہے کہ اس کے گناہ معاف ہوجایں گے۔ واللّہ عالم۔
خلاصہ کلام
مجرم کی موت سے دنیاوی قانون کی گرفت ختم ہو جاتی ہے، لیکن اخلاقی اور اخروی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔
جرم کا خاتمہ؟
معاشرے سے جرم کا خاتمہ صرف سخت سزاؤں سے نہیں بلکہ ایک جامع حکمتِ عملی سے ممکن ہے۔ اس کے لیے عبرت ناک سزائیں، مجرموں کی اصلاح، سماجی انصاف (غربت کا خاتمہ)، اور ٹیکنالوجی کے ذریعے سیکیورٹی میں بہتری جیسے عوامل بنیادی ستون ہیں۔ پولیس کی اصلاح اور خوفِ خدا کا فروغ بھی جرائم کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
جرائم کے خاتمے کے لیے جامع تجاویز:۔ (Rehabilitation) اصلاح اور تربیت
- اصلاح اور تربيت : مجرموں کو صرف قید نہ کیا جائے، بلکہ ان کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کی جائے تاکہ وہ معاشرے کا مفید رکن بن سکیں۔
- سماجی انصاف: غربت، بے روزگاری اور ناانصافی جیسے محرکات کو ختم کیا جائے جو جرائم کی جڑ ہیں۔
- قانون کا نفاذ اور پولیس میں اصلاحات: پولیس کے نظام کو کرپشن سے پاک کر کے موثر بنایا جائے تاکہ شہریوں کا قانون پر اعتماد بحال ہو۔
- جدید سیکیورٹی ٹیکنالوجی: نگرانی اور جدید تکنیک کے ذریعے جرم کے مواقع کو کم کیا جائے۔
- خوفِ خدا اور اخلاقی تعلیم: تعلیمی اداروں اور میڈیا کے ذریعے اخلاقی اقدار کو فروغ دیا جائے تاکہ دلوں میں گناہ کا ڈر پیدا ہو۔
نوٹ: جرم کا خاتمہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، جس میں حکومت، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
0 Comments