National Economic Council

قومی اقتصادی کونسل


“آئین پاکستان 1973 کی دفعہ 156 کے مطابق

نمبر۔ 1:- صدر ایک قومی اقتصادی کونسل تشکیل دے گا جس کا چیر مین ملک کا وزیر اعظم ہوگا ۔ اور دیگر ارکان کونسل کو بھی صدر مملکت اِس کونسل کے کے لیے عمل میں لایں گے۔ مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ صدر مملکت ہر صوبے سے ایک ایک رکن اُس صوبے کی حکومت کی شفارش پر نامزد کریں گے۔

نمبر ۔ 2:- قومی اقتصادی کونسل یہ کونسل ملک کی مجموعی اقتصادی حالت کا جائزہ لے گی اور وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو مشورہ دینے کے لیے یہ کونسل ملک کی مالیاتی’ تجارتی اور معاشرتی اور اقتصادی پالیسیوں کے بارے میں منصوبے وضع کرے گی اور ایسے منصوبے وضع کرتے وقت وہ پالیسی کے اُن اصولوں سے رہنُمائی حاصل کرے گی جو اس آرٹیکل کے حصہ دوئم کے باب نمبر 2 میں درج ہیں ۔

آرٹیکل 156 کی ہم کُچھ اس طرح وضاحت کرتے کی کوشش کرتے ہیں کہ :۔

ملک کی معاشی صورتحال کا جائزہ”۔

جائزہ لینے کے لیے ملک کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے معاشی حالات کو بہتر بنانے اور معاشی پالیسیوں کو وضع کرنے کے لیے۔ چلانے کے لیے ہر حکومت کو ایسے ادارے کی ضرورت ہوتی ہے جو اُسے معاشی امور میں مشورہ دے سکے تاکہ اندرونی اور بیرونی معاملات میں ملک اپنے اقتصادی اور معاشی معاملات کو طے کرنے کے لیے اہم کردار اور بہتر کردار ادا کرسکے ۔ اسی بناء پر صدر مملک کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ قومی اقتصادی کونسل قائم کرے۔

جس کا چیرمین وزیر اعظم ہو اور کونسل کے باقی ارکان صدر کی مرضی سے ہر صوبے سے کمیشن میں شامل کیے جائیں گے۔ مگر صوبائی حکومتوں کی مرضی اور اپروول سے ۔ یہ قومی اقتصادی کونسل آئین کے منصوبے وضع کرتے وقت پالیسی کے ان اصولوں سے رہنمائی حاصل کرے گی جو حصہ دوئم کے باب نمبر 2 میں درج ہے۔ لکھا ہوا ہے۔


0 Comments

Leave a Reply

Avatar placeholder

Your email address will not be published. Required fields are marked *