حسنِ اخلاق، کمالِ دین کی علامت ہے
✍🏻 امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“دین سراسر اخلاق کا نام ہے، لہٰذا جو شخص اخلاق میں تم سے بڑھ گیا، وہ دین میں بھی تم سے بڑھ گیا۔”
📚 مدارج السالكين (3/30)
وضاحت:
امام ابن القیم رحمہ اللہ کی اس بات کا مقصود یہ ہے کہ شریعت کے مطابق حسنِ اخلاق میں جتنی ترقی ہوگی، اتنا ہی انسان کے دین اور ایمان کا کمال ظاہر ہوگا؛ کیونکہ اچھے اخلاق دین کے عظیم ترین ثمرات میں سے ہیں۔
البتہ اس کلام کو اہلِ سنت کے اصولوں کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صرف اچھے اخلاق ہی کافی ہیں، یا اگر کسی کے معاملات اچھے ہوں تو وہ کامل الدین ہے، خواہ وہ توحید، نماز یا دیگر فرائض میں کوتاہی کرتا ہو۔
بلکہ دین تین بنیادی امور پر مشتمل ہے:
صحیح عقیدہ۔
عبادات اور فرائض کی پابندی۔
عمدہ اور شرعی اخلاق سے آراستہ ہونا۔
جب بندہ ان تینوں پہلوؤں میں کمال حاصل کرتا ہے تو اس کا دین بھی کامل ہوتا ہے۔ اور حسنِ اخلاق، کامل ایمان کی نمایاں علامت اور قیامت کے دن میزان میں سب سے بھاری اعمال میں سے ایک ہے۔
لہٰذا امام ابن القیم رحمہ اللہ کے کلام کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ دینِ حق انسان کے اندر حسنِ اخلاق پیدا کرتا ہے، اور دین کا کمال بندے کے اخلاق کے کمال سے نمایاں ہوتا ہے، نہ کہ دین صرف اخلاق ہی کا نام ہے۔
0 Comments