ساجد ایک سرکاری دفتر میں کام کرتا تھا۔ ادھر ہر روز کوئی نہ کوئی ایک بوڑھا آدمی فارم کے لیے دفتر آتا، مگر پڑھا لکھا نہ ہونے کی وجہ سے مشکل میں پڑھ جاتا۔۔ لوگ اس چیز کو دیکھتے، مگر آگے بڑھ جاتے۔ایک دن ساجد نے اپنا کام روکا، ایک بوڑھے شخص کا فارم بھرا، اسے سمجھایا اور متعلقہ کھڑکی تک بھی چھوڑ آیا۔پورا کام صرف تین منٹ میں ہو گیا۔ بوڑھے شخص نے جاتے ہوئے کہا “بیٹا! تم نے میرا کام نہیں کیا… تم نے آج میری بے بسی کم کی ہے۔” 🥲چند ماہ بعد ساجد کے والد دوسرے شہر میں ایک ہسپتال گئے۔ وہاں ایک اجنبی نوجوان نے ان کی ویسے ہی مدد کی، جیسے کبھی ساجد نے اس بوڑھے شخص کی کی تھی۔شام کو ساجد نے اپنے والد سے پوچھا “وہ لڑکا آپ کو جانتا تھا؟”والد نے مسکرا کر جواب دیا “نہیں بیٹا… لیکن دنیا ابھی اچھے لوگوں سے خالی نہیں ہوئی۔”ساجد خاموش ہو گیا اور اسے محسوس ہوا کہ شاید نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی، بس راستہ بدل کر واپس آتی ہے 🥰

تو نیکی کرنا کبھی نہ چھوڑیں اللہ پاک ہمیں اپنے پیارے نیک بندوں میں شامل فرمائے آمین کیونکہ اللہ پاک نیک بندوں سے محبت فرماتا ہے

Categories: Uncategorized

0 Comments

Leave a Reply

Avatar placeholder

Your email address will not be published. Required fields are marked *