قربانی کا مقصد فضیلت اہمیت کھال کی رقم لگانا جائز، قصاب کی اُجرت، گوشت کی تقسیم، جانور کے حصے اور شراک کے شرعی احکام۔
قربانی کا مقصدکیا ہے؟
قربانی کا لفظ ‘قُرب’ سے نکلا ہے.قربانی کا بنیادی مقصد اللّہ تعالیٰ کی رضاء اور اللّہ کی قُربت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ یہ حضرت ابراہیمؑ اور اُن کے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی عظیم قربانی کی یادگار اور امتِ محمدیہ کے لیے شعائرِ اسلام میں سے ایک انتہائی اہم عبادت ہے، جو صاحبِ استطاعت پر واجب قربانی ہے۔
قربانی کی فضیلت اور اہمیت:۔
اللّہ تعلیٰ کے یہاں پسندیدہ عمل؟
نمبر 1:- اللّہ پاک کے ہاں پسندیدہ ترین عمل قربانی:– حدیثِ مبارکہ کے مطابق، قربانی کے دنوں میں اللّہ تعالیٰ کو خون بہانے یعنی قربانی کرنے سے بڑھ کر کوئی عمل محبوب نہیں۔ یہ عمل نیکیوں کے پلڑے میں بہت بھاری ہو گا۔
قیامت کے دن بخشش؟
نمبر 2:- قیامت کے دن بخشش کا ذریعہ:– قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت پا لیتا ہے۔
سنت کی پیروی؟
نمبر 3:- سنتِ ابراہیمی کی پیروی:– یہ عبادت ہمیں حضرت ابراہیمؑ کے اس جذبۂ ایثار کی یاد دلاتی ہے، جو انہوں نے اللّہ کی محبت میں اپنے لختِ جگر کو قربان کرنے کے لیے پیش کیا تھا۔
انسان کا تقویٰ؟
نمبر 4:- اصل روح (تقویٰ):– اللّہ کو قربانی کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا، بلکہ اس کے ہاں انسان کا خلوص اور دل کا تقویٰ قبول ہوتا ہے۔
قربانی کی استطاعت؟
نمبر 5:- حکمِ رسولﷺ: آپؐ نے فرمایا کہ جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔
فقہ احناف کے نزیک؟
مختلف فقہی مذاہب میں اس کی نوعیت الگ ہے؛ جمہور احناف کے نزدیک یہ صاحبِ نصاب پر واجب ہے، جب کہ دیگر ائمہ کے نزدیک یہ سنتِ مؤکدہ ہے۔
قربانی کے بنیادی مسائل؟
قربانی کے نصاب و شرائط و مسائل:- قربانی کے نصاب (شرائط) احکام، مسائل اور اسلامی تاریخ کی روشنی میں اور کے حوالے کے ساتھ مکمل تفصیلات۔
جانور کے حصّے اور تقسیم کے شرعی احکام پر تفصیلی معلومات ملاحظہ فرمائیے۔
قربانی کے جانور میں حصے کو متعین کرنے اور جانور کے ذبح کے بعد گوشت کی تقسیم کے حوالے سے مستند فقہی احکام یہاں حاضر ہے؟
نمبر 1- جانور کے حصے اور شراکت کے احکام؟
چھوٹے جانور کی قربانی؟
نمبر :- 1۔ چھوٹے جانور (بکرا، بھیڑ، دنبہ): اس میں صرف ایک فرد کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے۔ ایک چھوٹے جانور میں ایک سے زیادہ لوگ حصے دار نہیں بن سکتے۔
نمبر 2:- بڑے جانور کی قربانی؟
نمبر 2:- بڑے جانور (گائے، بیل، بھینس، اونٹ): بڑے جانور میں زیادہ سے زیادہ سات حصے ہو سکتے ہیں۔
سات سے کم شیک قربانی؟
نمبر 3:- سات سے کم شرکاء: بڑے جانور میں سات سے کم افراد (مثلاً دو، چار یا چھ لوگ) بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ کسی بھی شریک کا حصہ کل جانور کی قیمت کے ساتویں حصے (1/7) سے کم نہ ہو۔ اگر کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم ہوا (مثلاً ایک گائے میں آٹھ لوگ شریک ہو گئے)، تو کسی کی بھی قربانی درست نہیں ہو گی۔
عمل کا دارومدار نیت پر پے؟
نمبر 4:- نیت کی شرط: تمام شرکاء کی نیت قربانی یا عقیقہ کی ہونی چاہیے۔ اگر ایک بھی شریک محض گوشت کھانے کی نیت سے شامل ہوا، تو کسی کی بھی قربانی قبول نہیں ہو گی۔
نمبر 2- . گوشت کی تقسیم کے شرعی احکام
گھر کے افراد کے لیے رعایت: اگر ایک ہی گھر کے افراد (جیسے والدین اور اولاد) مل کر قربانی کر رہے ہوں اور گوشت گھر ہی میں گڈمڈ رہنا ہو، تو اسے آپس میں تول کر بانٹنا ضروری نہیں ہے
حصیدار کے ساتھ انصاف؟
وزن کر کے تقسیم کرنا لازم ہے: اگر بڑے جانور میں کئی حصہ دار شریک ہوں اور وہ اپنا اپنا گوشت الگ لے جانا چاہیں، تو گوشت کو ترازو پر وزن کر کے برابر تقسیم کرنا لازم ہے۔ محض اندازے سے بوٹیاں یا حصے لگانا جائز نہیں، چاہے شرکاء آپس میں راضی ہی کیوں نہ ہوں۔
اندازے سے تقسیم کا حیلہ: اگر گوشت کے ساتھ پائے، کلہ یا ہڈیاں بھی ملا کر حصوں میں رکھ دی جائیں، تو پھر معمولی کمی بیشی کے ساتھ اندازے سے تقسیم کرنا بھی جائز ہو جاتا ہے۔
نمبر 3- . گوشت کی تقسیم کا مستحب طریقہ
قربانی کا گوشت تقسیم کرنا فرض یا واجب نہیں ہے؛ اگر کوئی شخص سارا گوشت خود بھی رکھ لے تو جائز ہے۔ تاہم، قرآن کریم (سورہ الحج: 28) اور احادیث کی روشنی میں افضل اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ گوشت کے تین برابر حصے کیے جائیں۔
اپنی آسانی کے لیے گوشت کو بانٹنے کے لیے تین حصے کرلیں؟
ایک حصہ: اپنے اہل و عیال اور گھر کے لیے۔
دوسرا حصہ: اپنے دوست احباب، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے لیے۔
تیسرا حصہ: غریبوں، یتیموں اور محتاجوں کے لیے۔
نمبر 4- قصاب کی اُجرت کا حکم؟
کسائی کا اُجرت؟
قربانی کے جانور کی کھال، گوشت، چربی یا کوئی بھی حصہ ذبح کرنے والے قصاب یا مددگار کو اجرت (مزدوری) کے طور پر دینا حرام ہے۔ قصاب کی مزدوری اپنے پاس سے الگ رقم کی صورت میں ادا کرنا لازم ہے۔ البتہ اجرت دینے کے بعد، بطورِ ہدیہ یا ضیافت اسے گوشت کا کچھ حصہ دیا جا سکتا ہے۔
جانور کے عمر کی حد اور عیوب (بیماریوں) کے بارے میں معلومات درکار ہیں۔
قربانی کی کھال کے مصارف اور احکام؟
قربانی کی کھال کے مصارف اور احکام
قربانی کی کھال اللّہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے گئے جانور کا حصہ ہوتی ہے۔ اس لیے اس کو فروخت کرنے، استعمال کرنے اور اس کی قیمت تقسیم کرنے کے حوالے سے شریعت نے سخت احکام مقرر کیے ہیں۔
نمبر 1- قربانی کی کھال کے بنیادی احکام
نمبر :- 1 ۔ اپنے استعمال میں لانا: قربانی کرنے والا شخص جانور کی کھال کو اپنے ذاتی استعمال میں لا سکتا ہے۔ مثلاً اس کا مصلّٰی (جائے نماز)، مشکیزہ، یا کوئی اور گھریلو چیز بنا کر خود استعمال کرنا بالکل جائز ہے۔
نمبر 2:- کھال کو فروخت کرنا: اگر کھال کو بیچ دیا جائے، تو اس سے حاصل ہونے والی پوری رقم کو صدقہ کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ قربانی کرنے والا اس رقم کو اپنے کسی ذاتی کام میں نہیں لا سکتا۔
نمبر 3:- قصاب کی اجرت: کھال یا اس کی رقم قصاب کو ذبح کرنے یا گوشت بنانے کی مزدوری میں دینا بالکل حرام ہے۔ قصاب کی اجرت ہمیشہ اپنے پاس سے الگ دینی چاہیے۔
نمبر 2- قربانی کی کھال کے مصارف (رقم کہاں دی جائے؟
اگر کھال بیچ دی جائے، تو اس کی رقم کے مصارف وہی ہیں جو زکوٰۃ کے مصارف ہیں۔ یعنی یہ رقم صرف اور صرف غریب اور مستحقِ زکوٰۃ مسلمانوں کو دی جا سکتی ہے۔
قربانی کا گوشت یا کھال دینا کیسا ہے؟
نمبر 1:- مستحقین کو دینا: یہ رقم غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور ایسے مساکین کو دی جائے جو زکوٰۃ لینے کے حقدار ہوں۔
نمبر 2:- دینی مدارس میں دینا: دینی مدارس کے غریب اور مستحق طلباء کے اخراجات (کھانے پینے اور رہائش) کے لیے یہ رقم دینا بہترین مصرف اور صدقۂ جاریہ ہے۔
نمبر 3:- کھال بعینہِ (جیسے ہے ویسے ہی) دینا: اگر کھال بیچی نہ جائے، بلکہ کسی غریب شخص یا دینی مدرسے کو اصل شکل میں تحفتاً دے دی جائے، تو یہ بھی جائز اور کارِ ثواب ہے۔
نمبر 3- وہ جگہیں جہاں کھال کی رقم لگانا جائز نہیں
نمبر 1+ مسجد کی تعمیر یا مرمت: کھال کی رقم مسجد کی تعمیر، رنگ و روغن، چٹائیوں یا امام و مؤذن کی تنخواہ میں نہیں لگائی جا سکتی۔
نمبر 2+ فاہی کام (بغیر تملیک): ایسی جگہوں پر یہ رقم استعمال نہیں ہو سکتی جہاں کسی غریب کو اس کا مالک نہ بنایا جائے، جیسے سڑک، پل یا ہسپتال کی عمارت کی تعمیر۔
نمبر 3+ سید (سادات) کو دینا: زکوٰۃ کی طرح قربانی کی کھال کی رقم بھی بنو ہاشم (ساداتِ کرام) کو دینا شرعاً جائز نہیں ہے۔
ان احکام کی فقہی تفصیلات اور مستند فتاویٰ ویب سائٹس پر پڑھ سکتے ہیں۔
جانور کی عمر کی حد اور عیوب (بیماریوں) کے بارے میں اور قربانی کے دنوں (ایامِ قربانی) کی شرعی حدود کی معلومات دوسرے کالم میں دیکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔
0 Comments