قربانی کیا ہے؟ قربانی کا مقصد فضیلت اہمیت، تقوی اور جانور کے کھال کی رقم کہاں دینا جائز ہے، قصاب کی اُجرت، گوشت کی تقسیم، جانور کے حصے اور شراک کے شرعی احکام۔
قربانی کا مقصدکیا ہے؟
قربانی کا لفظ ‘قُرب’ سے نکلا ہے.قربانی کا بنیادی مقصد اللّہ تعالیٰ کی رضاء اور اللّہ کی قُربت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ یہ حضرت ابراہیمؑ اور اُن کے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی عظیم قربانی کی یادگار اورامتِ محمدیہ کے لیے شعائرِ اسلام میں سے ایک انتہائی اہم عبادت ہے، جو صاحبِ استطاعت پر واجب قربانی ہے۔
قربانی کی فضیلت اور اہمیت، اللّہ تعلیٰ کے یہاں قربانی پسندیدہ عمل کیوں ہے؟
نمبر 1:- اللّہ پاک کے ہاں پسندیدہ ترین عمل قربانی:– حدیثِ مبارکہ کے مطابق، قربانی کے دنوں میں اللّہ تعالیٰ کو خون بہانے یعنی قربانی کرنے سے بڑھ کر کوئی عمل محبوب نہیں۔ یہ عمل نیکیوں کے پلڑے میں بہت بھاری ہو گا۔
قُربانی قیامت کے دن بخشش کا زریعہ کیوں بنے گی؟
نمبر 2:- قیامت کے دن بخشش کا ذریعہ:– قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت پا لیتا ہے۔
قُربانی سنت ابراہیمی کی پیروی اطباع کا نام اسلام ہے؟
نمبر 3:- سنتِ ابراہیمی کی پیروی:– یہ عبادت ہمیں حضرت ابراہیمؑ کے اس جذبۂ ایثار کی یاد دلاتی ہے، جو انہوں نے اللّہ کی محبت میں اپنے لختِ جگر کو قربان کرنے کے لیے پیش کیا تھا۔
انسان کا تقویٰ؟
نمبر 4:- اصل روح (تقویٰ):– اللّہ کو قربانی کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا، بلکہ اس کے ہاں انسان کا خلوص اور دل کا تقویٰ قبول ہوتا ہے۔
قربانی کی استطاعت؟
نمبر 5:- حکمِ رسولﷺ: آپؐ نے فرمایا کہ جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔
قربانی اللّہ کے ہاں بخشش اور نجات کا زریعہ کیوں بنے گی؟
قربانی قیامت کے دن بخشش اور نجات کا ایک عظیم ذریعہ بنے گی کیونکہ یہ خالصتاً اللّہ تعالیٰ کی رضاء اور حکمِ ربی کی بَجا آوری اور تقویٰ الہی کا عملی مظہر ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کی چند بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:۔
نمبر :- 1 خون کا قطرہ گرنے سے قبل قبولیت: حضرت عائشہؓ سے مروی ایک حدیث کے مطابق، قربانی کا جانور ذبح کیے جانے کے بعد زمین پر خون کا قطرہ گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہو جاتی ہے اور اسے شرفِ قبولیت بخش دیا جاتا ہے۔
نمبر :- 2 ہر بال کے بدلے نیکی: قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی لکھی جاتی ہے، جو میزانِ عمل میں بخشش کا بڑا ذریعہ بنتی ہے۔
نمبر :- 3 گناہوں کی معافی: قربانی کے جانور کا خون، گوشت اور اس کے اعضاء قیامت کے دن نیکیوں کے پلڑے کو بھاری کریں گے اور انسان کے صغیرہ گناہوں کی معافی کا سبب بنیں گے۔
نمبر :- 4 سواری اور شفاعت: احادیث میں آتا ہے کہ قربانی کے جانور قیامت کے دن پل صراط پر انسان کی سواری بنیں گے اور بخشش و کامیابی کے ساتھ پار کروانے میں معاون ثابت ہوں گے۔
نمبر :- 5 تقویٰ کا اظہار: قرآنِ مجید (سورۃ الحج، آیت ۳۷) میں واضح فرمایا گیا ہے کہ اللہ کو قربانی کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا، بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ یہی اخلاص اور تقویٰ روزِ محشر نجات کی بنیاد ہے۔
قرآن مجید کی سورہ الحج میں قربانی کو شعائر اللّہ یعنی اللّہ کی نشانیوں میں سے قرار دیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ اللّہ کو جانور کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا، بلکہ اس کے ہاں انسان کا تقویٰ اور اخلاص پہنچتا ہے اور قبول ہوتا ہے۔
قربانی کا بنیادی فلسفہ ؟
سورہ حج آیت نمبر 34 – 36 اور 37 میں قربانی کے حوالے سے بنیادی ہدایات جاری کیئے گئیے ہیں:۔
عبادت کا تسلسل (سوۃ الحج آیت 34):– سورہ حج (آیت 34)
ترجمہ: “اور ہم نے ہر اُمت کے لیے قربانی کا ایک طریقہ مقرر فرمایا ہے تاکہ وہ ان مویشی چوپایوں پر اللّہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا کیے ہیں، پس تمہارا معبود ایک ہی ہے، تو تم اسی کے فرمانبردار بن جاؤ، اور (اے نبی ﷺ!) عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے اللّہ تعالیٰ نے ہر امت کے لیے قربانی کا طریقہ مقرر کیا ہے تاکہ وہ مویشیوں پر اللّہ کا نام لے کر اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں۔
جانور کی گوشت کی تقسیم
گوشت کی تقسیم (سورہ حج آیت 36):– قربانی کا گوشت خود بھی کھائیں، ان لوگوں کو بھی کھلائیں جو قناعت کر کے گھر بیٹھتے ہیں اور کسی سے مانگتے نہیں۔ اور ان حاجت مندوں کو بھی دیں جو مانگتے ہیں۔ “اور قربانی کے اونٹوں (اور گایوں) کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں میں سے بنا دیا ہے، ان میں تمہارے لیے فائدہ ہے۔ پس انہیں قطار میں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو، پھر جب وہ (ذبح ہو کر) اپنے پہلو کے بل گر پڑیں تو ان میں سے خود بھی کھاؤ اور (غرباء کو بھی کھلاؤ) قناعت سے بیٹھنے والوں کو اور سوال کرنے والوں کو بھی۔ اسی طرح ہم نے ان جانوروں کو تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو
تقویٰ کی اہمیت (سورہ حج آیت 37):– قربانی کی اصل روح نیت اور پرہیزگاری ہے۔ اللّہ تعالیٰ تک صرف آپ کا تقویٰ پہنچتا ہے۔
سورۃ الحج آیت نمبر 34- سورہ حج (آیت 34)
ترجمہ: “اور ہم نے ہر اُمت کے لیے قربانی کا ایک طریقہ مقرر فرمایا ہے تاکہ وہ ان مویشی چوپایوں پر اللّہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا کیے ہیں، پس تمہارا معبود ایک ہی ہے، تو تم اسی کے فرمانبردار بن جاؤ، اور (اے نبی ﷺ!) عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔
سورہ حج (آیت 34)
حج کے دوران دی جانے والی قربانی کو حدی کہا جاتا ہے؟ (Hady)
حج کے دوران دی جانے والی قربانی کو “ہدی” کہا جاتا ہے۔ یہ قربانی عام عید الاضحیٰ کی قربانی سے الگ ہوتی ہے کیونکہ یہ خاص طور پر حج کے ارکان کا ایک حصہ ہے۔
حج کے دوران قربانی کے بارے میں اہم معلومات درج ذیل ہیں:۔
نمبر :- 1۔ یہ قربانی کس پر واجب ہے؟
کی تین اقسام ہیں۔ ان میں سے دو اقسام کے حاجیوں پر قربانی کرنا واجب (ضروری) ہے:۔
حجِ تمتُع کرنے والے: جو پہلے عمرہ کرتے ہیں، پھر احرام کھولتے ہیں اور دوبارہ حج کا احرام باندھتے ہیں۔
حجِ قِران کرنے والے: جو عمرہ اور حج دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھتے ہیں۔
(نوٹ: حجِ افراد یعنی صرف حج کرنے والوں پر یہ قربانی واجب نہیں ہوتی، وہ چاہیں تو نفلی قربانی کر سکتے ہیں۔)
نمبر :- 2- قُربانی کا وقت اور جگہ
وقت: یہ قربانی ۱۰ ذوالحجہ (عید کے دن) بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد شروع ہوتی ہے اور ۱۲ ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب تک کی جا سکتی ہے۔
جگہ: حج کی یہ قربانی صرف حدودِ حرم (مکہ یا منیٰ) کے اندر ہونا ضروری ہے۔ حدودِ حرم سے باہر یہ قربانی نہیں ہو سکتی۔
نمبر :- 3- قربانی کے گوشت کا کیا کیا جاتا ہے؟
غریبوں کا حق: اس گوشت کا زیادہ تر حصہ مکہ کے غریبوں اور مسکینوں میں بانٹا جاتا ہے۔
جدید انتظام: آج کل حاجی خود جانور نہیں خریدتے۔ وہ حکومتِ سعودی عرب کے قائم کردہ بینکوں (جیسے اسلامی ترقیاتی بینک) میں رقم جمع کرواتے ہیں۔ یہ ادارے حاجیوں کی طرف سے قربانی کر کے گوشت کو دنیا بھر کے غریب مسلمان ملکوں میں بھیج دیتے ہیں۔
نمبر :- 4- اگر کوئی قربانی نہ کر سکے؟
اگر کوئی حاجی غریب ہو اور قربانی کے جانور کے پیسے نہ ہوں، تو قرآن پاک کے حکم کے مطابق اسے ۱۰ روزے رکھنے ہوتے ہیں:۔
۳ روزے: حج کے دنوں میں (مکہ میں)۔
۷ روزے: اپنے وطن واپس لوٹ کر۔
حج کی قربانی کی رقم سعودی حکومت کے منظور شدہ نظام یا سرکاری پیکج کے ذریعے نسک جیسے پلیٹ فارمز پر جمع کروائی جاتی ہے- قربانی کی عدم ادائیگی پر واجب ہونے والے روزوں کی تعداد ۱۰ ہوتی ہے (۳ حج کے دوران اور ۷ گھر لوٹ کر ادا کرنا ضروری ہے۔
حج کی قربانی کی رقم جمع کروانے کے طریقے
سعودی حکومت نے حجاج کرام کی سہولت کے لیے قربانی کا نظام انتہائی منظم کر دیا ہے:۔
- حج پیکج میں شمولیت: سرکاری اور نجی (پرائیویٹ) حج اسکیموں کے تحت حاجی کا پیکج نسک یا مجاز ٹور آپریٹرز کے ذریعے بک ہوتا ہے جس میں قربانی کی مقررہ فیس (جو کہ لگ بھگ ۷۲۰ سعودی ریال یا ۵۳,۰۰۰ پاکستانی روپے تک ہوتی ہے) پہلے ہی شامل ہوتی ہے。
- بینکوں کے ذریعے ادائیگی: اگر فیس الگ سے جمع کروانی ہو، تو سعودی عرب کی جانب سے نامزد کردہ بینکوں یا حجاج کی سہولت کے لیے قائم کردہ سینٹرز کے ذریعے یہ رقم جمع ہوتی ہے جس کے بعد کوپن جاری کیا جاتا ہے。
- مقامِ ذبح: حاجی کی طرف سے یہ قربانی حدودِ حرم (خصوصاً منیٰ) میں ہی کی جاتی ہے
حج میں روزے رکھنے کے احکام
جو حاجی حج تمتع یا حج قِران ادا کرتے ہیں (یعنی ایک ساتھ عمرہ اور حج کرتے ہیں)، ان پر بطورِ شکرانہ قربانی (ہدی) واجب ہوتی ہے-اگر کوئی شخص قربانی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا یا وہاں موجود احکامات کے تحت انتظام نہیں کر پاتا، تو اسے اس کے بدلے ۱۰ روزے رکھنے ہوتے ہیں۔
روزوں کی تقسیم درج ذیل ہے:۔
- پہلے ۳ روزے: یہ روزے ایامِ حج میں رکھے جاتے ہیں。بہتر اور افضل یہ ہے کہ یہ روزے احرام باندھنے کے بعد اور یومِ عرفہ (۹ ذوالحجہ) سے پہلے پہلے مکمل کر لیے جائیں。اگر آپ نے یہ روزے ایامِ تشریق (۱۰، ۱۱، ۱۲، ۱۳ ذوالحجہ) شروع ہونے سے پہلے نہ رکھے تو بعد میں روزے رکھنے سے قربانی کا فدیہ ادا نہیں ہوگا اور حاجی پر دم (قربانی) لازم ہو جائے گی。
- باقی ۷ روزے: یہ روزے حج کے ایام اور مناسک مکمل ہونے کے بعد وطن واپس آ کر رکھے جاتے ہیں، البتہ اگر کوئی حاجی مکہ مکرمہ میں ہی رہنا چاہے تو وہاں بھی رکھ سکتا ہے۔
وضاحت: یہ روزے لگاتار رکھنا ضروری نہیں، الگ الگ وقفے سے بھی رکھے جا سکتے ہیں۔
نوٹ: حجِ اِفراد کرنے والوں پر قربانی واجب نہیں، مستحب ہے۔ البتہ اگر آپ پر کوئی غلطی (جیسے احترام کی خلاف ورزی) سرزد ہو جائے، تب بھی روزوں یا فدیے کا الگ حکم لاگو ہوتا ہے۔
جانور کے حصے اور شراکت کے شرعی احکام؟
قربانی کے جانور میں حصے ڈالنے اور شراکت کے بنیادی شرعی احکام سماعت فرمائیے:۔
قربانی کے جانور کے حصّوں کی تفصیل؟
اونٹ اور گائے: اونٹ (یا اونٹنی) اور گائے (یا بیل/کٹڑا) میں زیادہ سے زیادہ 7 افراد تک کی شراکت جائز ہے۔ اگر ایک سے سات تک افراد مل کر قربانی کریں، تو سب کا حصہ اور ثواب برابر شمار ہوگا۔
بھیڑ، بکری اور دنبہ: ان جانوروں میں شرکت جائز نہیں ہے۔ ایک بکری یا بھیڑ کی طرف سے صرف ایک ہی شخص کی قربانی ہو سکتی ہے، البتہ اس کا ثواب گھر کے تمام افراد کو بخشا جا سکتا ہے۔
شرعی شرائط و ضوابط
نیت کی درستگی: تمام شرکاء کی نیت محض اللہ کی رضا اور قربانی کی ہونی چاہیے۔ اگر کسی شریک کا مقصد صرف گوشت حاصل کرنا ہو، تو کسی بھی شریک کی قربانی قبول نہیں ہوگی۔
حصوں کی تقسیم: ہر شریک کا حصہ برابر ہونا چاہیے (مثلاً ساتواں حصہ)۔ اگر کوئی شخص آدھا یا چوتھائی حصہ لینا چاہے تو لے سکتا ہے، بشرطیکہ مجموعی حصے سات سے تجاوز نہ کریں۔
حصے کی مقدار: کسی بھی شریک کا حصہ کل جانور کے ساتویں حصے سے کم نہیں ہونا چاہیے۔
مال حلال: تمام شرکاء کی رقم حلال اور پاکیزہ ہونی چاہیے۔ اگر کسی ایک بھی شریک کی کمائی حرام یا سود پر مبنی ہوئی، تو تمام شرکاء کی قربانی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
گوشت کی تقسیم: گوشت کا وزن اندازے سے نہیں، بلکہ ترازو کے ذریعے تول کر برابر تقسیم کرنا لازم ہے۔ اگر کوئی شخص بغیر تولے کم یا زیادہ گوشت لے گا، تو یہ سود کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
قربانی کے مسائل میں احتیاط بہت ضروری ہے۔ جانور کی عمر کی شرائط اور گوشت کے حصوں کی تقسیم کے طریقہ کار؟
مذکورہ بالا نکات اسلامی عقائد اور احادیث کے عین مطابق ہیں جو قربانی کو اللّہ کی قربت اور مغفرت کا بہترین ذریعہ بناتے ہیں۔
قربانی کے مسائل و احکام کے کچھ مزید تاریخی اور روحانی اہمیت پر گفتگو سماعت فرمائیے؟
فقہ احناف کے نزیک؟
مختلف فقہی مذاہب میں اس کی نوعیت الگ ہے؛ جمہور احناف کے نزدیک یہ صاحبِ نصاب پر واجب ہے، جب کہ دیگر ائمہ کے نزدیک یہ سنتِ مؤکدہ ہے۔
قربانی کے بنیادی مسائل؟
قربانی کے نصاب و شرائط و مسائل:- قربانی کے نصاب (شرائط) احکام، مسائل اور اسلامی تاریخ کی روشنی میں اور کے حوالے کے ساتھ مکمل تفصیلات۔
جانور کے حصّے اور تقسیم کے شرعی احکام پر تفصیلی معلومات ملاحظہ فرمائیے۔
قربانی کے جانور میں حصے کو متعین کرنے اور جانور کے ذبح کے بعد گوشت کی تقسیم کے حوالے سے مستند فقہی احکام یہاں حاضر ہے؟
نمبر 1- جانور کے حصے اور شراکت کے احکام؟
چھوٹے جانور کی قربانی؟
نمبر :- 1۔ چھوٹے جانور (بکرا، بھیڑ، دنبہ): اس میں صرف ایک فرد کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے۔ ایک چھوٹے جانور میں ایک سے زیادہ لوگ حصے دار نہیں بن سکتے۔
نمبر 2:- بڑے جانور کی قربانی؟
نمبر 2:- بڑے جانور (گائے، بیل، بھینس، اونٹ): بڑے جانور میں زیادہ سے زیادہ سات حصے ہو سکتے ہیں۔
سات سے کم شریک قربانی؟
نمبر 3:- سات سے کم شرکاء: بڑے جانور میں سات سے کم افراد (مثلاً دو، چار یا چھ لوگ) بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ کسی بھی شریک کا حصہ کل جانور کی قیمت کے ساتویں حصے (1/7) سے کم نہ ہو۔ اگر کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم ہوا (مثلاً ایک گائے میں آٹھ لوگ شریک ہو گئے)، تو کسی کی بھی قربانی درست نہیں ہو گی۔
عمل کا دارومدار نیت پر پے؟
نمبر 4:- نیت کی شرط: تمام شرکاء کی نیت قربانی یا عقیقہ کی ہونی چاہیے۔ اگر ایک بھی شریک محض گوشت کھانے کی نیت سے شامل ہوا، تو کسی کی بھی قربانی قبول نہیں ہو گی۔
نمبر 2- . گوشت کی تقسیم کے شرعی احکام
گھر کے افراد کے لیے رعایت: اگر ایک ہی گھر کے افراد (جیسے والدین اور اولاد) مل کر قربانی کر رہے ہوں اور گوشت گھر ہی میں گڈمڈ رہنا ہو، تو اسے آپس میں تول کر بانٹنا ضروری نہیں ہے
جانوروں کی قربانی میں حصیداروں کے ساتھ انصاف؟
وزن کر کے تقسیم کرنا لازم ہے: اگر بڑے جانور میں کئی حصہ دار شریک ہوں اور وہ اپنا اپنا گوشت الگ لے جانا چاہیں، تو گوشت کو ترازو پر وزن کر کے برابر تقسیم کرنا لازم ہے۔ محض اندازے سے بوٹیاں یا حصے لگانا جائز نہیں، چاہے شرکاء آپس میں راضی ہی کیوں نہ ہوں۔
اندازے سے تقسیم کا حیلہ: اگر گوشت کے ساتھ پائے، کلہ یا ہڈیاں بھی ملا کر حصوں میں رکھ دی جائیں، تو پھر معمولی کمی بیشی کے ساتھ اندازے سے تقسیم کرنا بھی جائز ہو جاتا ہے۔
نمبر 3:- گوشت کی تقسیم کا مستحب طریقہ
قربانی کا گوشت تقسیم کرنا فرض یا واجب نہیں ہے؛ اگر کوئی شخص سارا گوشت خود بھی رکھ لے تو جائز ہے۔ تاہم، قرآن کریم (سورہ الحج: 28) اور احادیث کی روشنی میں افضل اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ گوشت کے تین برابر حصے کیے جائیں۔
اپنی آسانی کے لیے گوشت کو بانٹنے کے لیے تین حصے کرلیں؟
ایک حصہ: اپنے اہل و عیال اور گھر کے لیے۔
دوسرا حصہ: اپنے دوست احباب، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے لیے۔
تیسرا حصہ: غریبوں، یتیموں اور محتاجوں کے لیے۔
نمبر 4- قصاب کی اُجرت کا حکم؟
قربانی کے جانور کی کھال، گوشت، چربی یا کوئی بھی حصہ ذبح کرنے والے قصاب یا مددگار کو اجرت (مزدوری) کے طور پر دینا حرام ہے۔ قصاب کی مزدوری اپنے پاس سے الگ رقم کی صورت میں ادا کرنا لازم ہے۔ البتہ اجرت دینے کے بعد، بطورِ ہدیہ یا ضیافت اسے گوشت کا کچھ حصہ دیا جا سکتا ہے۔
جانور کے عمر کی حد اور عیوب (بیماریوں) کے بارے میں معلومات درکار ہیں۔
قربانی کی کھال کے مصارف اور احکام؟
قربانی کی کھال اللّہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے گئے جانور کا حصہ ہوتی ہے۔ اس لیے اس کو فروخت کرنے، استعمال کرنے اور اس کی قیمت تقسیم کرنے کے حوالے سے شریعت نے سخت احکام مقرر کیے ہیں۔
نمبر 1- قربانی کی کھال کے بنیادی احکام
نمبر :- 1 ۔ اپنے استعمال میں لانا: قربانی کرنے والا شخص جانور کی کھال کو اپنے ذاتی استعمال میں لا سکتا ہے۔ مثلاً اس کا مصلّٰی (جائے نماز)، مشکیزہ، یا کوئی اور گھریلو چیز بنا کر خود استعمال کرنا بالکل جائز ہے۔
نمبر 2:- کھال کو فروخت کرنا: اگر کھال کو بیچ دیا جائے، تو اس سے حاصل ہونے والی پوری رقم کو صدقہ کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ قربانی کرنے والا اس رقم کو اپنے کسی ذاتی کام میں نہیں لا سکتا۔
نمبر 3:- قصاب کی اجرت: کھال یا اس کی رقم قصاب کو ذبح کرنے یا گوشت بنانے کی مزدوری میں دینا بالکل حرام ہے۔ قصاب کی اجرت ہمیشہ اپنے پاس سے الگ دینی چاہیے۔
نمبر 2- قربانی کی کھال کے مصارف (رقم کہاں دی جائے؟
اگر کھال بیچ دی جائے، تو اس کی رقم کے مصارف وہی ہیں جو زکوٰۃ کے مصارف ہیں۔ یعنی یہ رقم صرف اور صرف غریب اور مستحقِ زکوٰۃ مسلمانوں کو دی جا سکتی ہے۔
قربانی کا گوشت یا کھال دینا کیسا ہے؟
نمبر 1:- مستحقین کو دینا: یہ رقم غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور ایسے مساکین کو دی جائے جو زکوٰۃ لینے کے حقدار ہوں۔
نمبر 2:- دینی مدارس میں دینا: دینی مدارس کے غریب اور مستحق طلباء کے اخراجات (کھانے پینے اور رہائش) کے لیے یہ رقم دینا بہترین مصرف اور صدقۂ جاریہ ہے۔
نمبر 3:- کھال بعینہِ (جیسے ہے ویسے ہی) دینا: اگر کھال بیچی نہ جائے، بلکہ کسی غریب شخص یا دینی مدرسے کو اصل شکل میں تحفتاً دے دی جائے، تو یہ بھی جائز اور کارِ ثواب ہے۔
نمبر 3- وہ جگہیں جہاں کھال کی رقم لگانا جائز نہیں
نمبر 1+ مسجد کی تعمیر یا مرمت: کھال کی رقم مسجد کی تعمیر، رنگ و روغن، چٹائیوں یا امام و مؤذن کی تنخواہ میں نہیں لگائی جا سکتی۔
نمبر 2+ فاہی کام (بغیر تملیک): ایسی جگہوں پر یہ رقم استعمال نہیں ہو سکتی جہاں کسی غریب کو اس کا مالک نہ بنایا جائے، جیسے سڑک، پل یا ہسپتال کی عمارت کی تعمیر۔
نمبر 3+ سید (سادات) کو دینا: زکوٰۃ کی طرح قربانی کی کھال کی رقم بھی بنو ہاشم (ساداتِ کرام) کو دینا شرعاً جائز نہیں ہے۔
ان احکام کی فقہی تفصیلات اور مستند رولز آپ ہمارے دیگر کالم میں پڑھ سکتے ہیں۔
جانور کی عمر کی حد اور عیوب (بیماریوں) کے بارے میں اور قربانی کے دنوں (ایامِ قربانی) کی شرعی حدود کی معلومات کے لیے آپ ہمارے دوسرے کالم میں دیکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ قربانی کے مسائل میں احتیاط بہت ضروری ہے۔ جانور کی عمر کی شرائط اور گوشت کے حصوں کی تقسیم کے طریقہ کار کے بارے میں مزید تفصیلات جاننا چاہتے ہیں تو بتائیے؟
شکر گزاری کا حکم
اللّہ نے ان جانوروں کو ہمارے تابع اس لیے کیا ہے تاکہ ہم کھائیں، کھلائیں اور دل سے اللّہ کا شکر ادا کریں۔ قربانی کا اصل مقصد دکھوا نہیں بلکہ اللّہ کی فرمانبرداری ہے۔
0 Comments