کیا دنیا کی ترقی میں ہمارا کوئی رول یا قول ہے

آج دنیا کی ایجادات میں یا دریافت میں ہمارا کوئی کردار ہے یا کوئی حصہ ہے یا نہیں ہے ؟ آج کوئی سائینسی ایجاد کسی مسلمان کے نام سے کیوں منسوب نہیں ہے ؟

پہلے ہم دنیا کو دیتے تھے اور اب ہم دنیا سے لیتے ہیں ۔پہلے دنیا ہماری محتاج تھی اور اب ہم دنیا کے محتاج ہیں ۔

پہلے ہم دنیا کا مستقبل طے کرتے تھے اور اب دنیا ہمارا مستقبل طے کرتی ہے ۔

خواہ وہ تعلیم و تربیت کا مسلہ ہو یا کھیل کا میدان ہو یا سائینس اینڈ ٹکنالوجی کا ۔ اخلاقیات ہو یا صقافت ۔

کیا زوال ہے کیسی بلندی تھی اور اب کیسی پستی ہے؟

فارابی ۔ کنزی ۔ جابر بن حیان ۔ ابن سینا ۔امام غزالی ۔ رابی ۔ البیرونی اور بہت سارے ۔ ان کی ایجادات ان کی دوائیاں ۔ علم ادویات اور علم فلکیات ۔ علم ریاضیات اور ان گینت ایجادات مسلمان سائینسدانوں نے کی ۔

مگر آج : ۔ نہ خدا ملا نہ وسال یار نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے ۔

ہمارے اپنوں نے ہمیں دھوکہ دیا

ہماری جہالت نے ہمیں اندھیرے میں رکھا اور ہم ٹھوکر کھا تے رہیں اور گرتے رہیں ۔

یہ ہم تازہ زمانے کی بات کررہے ہیں

آج زوال کی طرف امت ائی ہے پستی کی طرف امت مسلمہ آئی ہے ۔ عہد رفتہ کو ہم نے بھولا دیا ہے ۔

  • آج کی ایجادات انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے
  • اس کو کسی ایک ملت نے یا کسی ایک مذب نے ائجاد نہیں کیا ہے
  • اس ایجاد کو کرنے میں سیکھ عیسائی ہندو ۔ مسلمان سب ہیں
  • آج ہم مغرب کے سائینسی مراکز میں سب ہی کو دیکھتے ہیں ۔
  • سائینس اور ٹکنالوجی کے ہر عہدے پر ہم مسلمان کو دیکھتے ہیں
  • یہ کسی ایک کا ایجاد نہیں ہے

منصیف آنا اعتراف

آج ہم دنیا کے بھیکاری بن چکے ہیں ۔ آج ہم خادم ہوچکے ہیں حاکم نہیں ۔ آج ہم شکار ہوچکے ہیں شکاری نہیں ۔ محکوم ہوچکے ہیں ۔ مخدوم نہیں ۔ آج ہم متاثر ہوچکے ہیں موثر نہیں ۔

ہمارے پاس لیڈینگ پاور نہیں ہے ۔

آج ہمارے پاس تسخیر کائنات کے لیے علم و فہم نہیں ہے ااور نہ ہی تبدیلی کی سوچ اور علم و ہنر ہے ۔

ہم نے علمی و تحقیقی میدان میں کام کرنا چھوڑ دیا تو علمی و تحقیقی میدان میں خلاء پیدا ہو گیا ۔جب ہم نےعلمی تحقیق و تدریس دنیا کو چھوڑ دیا تو اغیار کو موقع مل گیا ۔ دوسروں کو موقع مل گیا ۔

ورنہ بے شمار ایجادات کے موجید ہم تھے ۔ تسخیر کائنات کے موجید ہم تھے ۔

ہم نے جو نظام تعلیم اختیار کیا اس میں جو سب سے بڑی غلطی تھی یا خامی تھی وہ یہ کہ ۔

دوہرے نظام تعلیم

ہم نے دین کو دنیا سے الگ کر دیا ۔ ہم نے دینی نظام تعلیم کو دنیا کے نظام تعلیم سے قطع الگ کر دیا۔ بلکل الگ کر دیا ۔ یہ بڑی فاش غلطی تھی اور ہے ۔

آج مسلمانوں کی کریم دو حصّو میں تقسیم ہے ۔ہمارے دانشور ایک دوسرے سے الگ ہو چکے ہیں ۔ کچھ ممبر و مسجد و مدارس کی طرف چلے گہیے ۔ اور کچھ اسکول ، کالج اور یونیور سٹی اور سائینس اور ٹکنالوجی کی طرف چلے گئیے ۔

یہ دونوں پڑھا لکھا طبقہ ایک دوسرے کے رائول، مخالف بن چکے ہیں

یہاں سے شروع ہوتا ہے ۔ مسٹر جنٹل مین کی دنیا اور ملّا اور ملوی کی دنیا اور ۔

ایک نے اپنی خوہش کو اپنا خدا بنا رکھا ہے

دونوں کا قصور ہے ۔ایک کے پاس زندگی کا مقصد حیات دنیا کا حصول ہے ۔ وہ دین کی بنیادی تعلیم سے بے خبر اور خبر حاصل کرنا بھی نہیں چاہتا ہے ۔ دین کی بنیادی اور ضروری ارکان کو سیکھنا نہیں چاہتا ہے ۔ وہ پاک اور پاکیزگی اور طہارت کے علم کو ضروری نہیں سمجھ تا ہے ۔وہ بے خبر رہنا چاہتا ہے ایمان کے ارکان سے ؟ کیا ضروری ہے اور کیا غیر ضروری وہ جاننا بھی نہیں چاہتا ہے ؟ نماذ ، روزہ حج ، ذکوة کی اہمیت کو غیر اہم سمجھتا ہے ۔ اس کا دل دین کو جاننا یا سیکھنا نہیں چاہتا ہے ۔ وہ مادّی چیزوں سے سب سے نے پناہ محبت کرتا ہے ۔اس کی خوہش اس کی ضرورت ہے ۔ اور

یہی دین اور یہی دنیا ہے اس کی ؟

اس کو نہ قران جاننے یا پڑھنے کی توفیق ہوئی نہ اسلام کو سمجھنے کی طلب ہوئی اس کو ۔

دوسری طرف دینی تبقہ دنیا کے علم کو حاصل کرنا نہیں چاہتے ہیں ۔

جو خدا کا وفادار نہیں وہ مخلوق کا وفادار کیسے ہو گا ؟

اگر مسجد اور یونیور سیٹی کو ملا دیا جاے تو یہ تفریق کم اور ختم ہو جائے گی ۔

ہمارے شہ دماغ تقسیم ہو گیے ۔ ادھر کا بھی قصور اور ادھر کا بھی قصور ہے ۔

ایدھر کے لوگ اتتہائی قسم کا دماغ قران اور حدیث سے واقف فقہ سے واقف ۔۔۔

مگر انگریزی کا ایک لفظ بھی نہیں معلوم اگر وہ کسی آفس کے گیٹ پر جائے تو پول اور پوش کے معنی سے نا واقف

اگر اس کے پاس کوئی نوٹس اجائے تو اس کو یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ انعام کا خط ہے یا عدالت کا وارنٹ ۔گرفتاری کا وارنٹ ہے یا ایوارڈ کی خوش خبری ۔

اس طرف یہ کمزوری لیکن دوسری طرف کی صورت حال یہ ہے کہ ان کو کلمہ بھی اتا ۔ الحمد شریف بھی نہیں آتا ۔ ان کو مناز اور وضوع کی ادائگی کا علم نہیں ۔

اور ان کے دنیاوی تعلیم کا یہ حال ہے کہ بڑے جج وکیل وغیرہ وہ ایوانوں کے مالک وزیر سفیر سینٹرز ، منسٹر ۔صدر اور وزیر اعظم ہیں ۔ یہ اسلام کے بنیادی ارکان سے تک واقف نہیں ہیں ۔ اعلی درجے کے ڈاکٹر ۔۔۔

گمان یا بدگمانی سے ہٹ کر ظن اور حسن ظن

اسلامہ جمہوریہ کو چلانے والوں کا کیا حال ہے؟

سوال پیدا ہوتا ہے اس کی نمازوں کا کیا ہوگا ۔ اس کے روزوں کا کیا ہوگا ۔ اس کے تہارت کا کیا حال ہوگا ؟ غسل کے بنیادی فرائض سے واقف نہیں ہیں ۔ وہ قران کی کسی سورت سے واقف نہیں ہیں اور نہ ہونا چاہتے ہیں ۔

جو خدا کا وفادار نہیں وہ مخلوق کا وفادار کیسے ہو گا ؟

خرابی دونوں طرف ہے ۔

اگر مدرسے اور کالج کو ملا دیا جائے مسجد اور ایوان کو ملا دیا جائے ۔

تو ریاست مدینہ خوشگوار نمونہ اور جھلکیاں انقلاب آپ کو نظر آئیں گی ۔ اسلام کی جھلکیاں نظر اے گی

سائینس اور ٹکنالوجی اور فلکیات میں مسلمانوں کی بڑی خدمات

یہ ایجادات تو چھوٹی سی بات ہے

پھر چاند ستارے اور سورج کی گزرگاہوں پر تحقیق کرنے لگے گے ان شاء اللّٰہ

اگر ملکوں کے شہ سوار اور لیڈینگ طبقہ اگر ان باتوں پر نظرثانی کرے غورو فکر کرے ؟

اگر قوم کے نوجوانوں کو صحیح ، حقیقی اور مویسسر اور تسخیر کائینات والا نظام تعلیم مل جائے ۔

اسلام کا داعی ہو ،مبلغ دین ہو ،ترجمان اسلام محافظ قراآن ہو ہمارا بنیادی کردار کیا ہونا چاہیے ؟

قران کا داعی صرف اور صرف نماز اور روزے کی حد تک محدود نہیں رہتا ۔ قرام کریم پڑھنے اور پڑھانے اور تلاوت کرنے والا صرف اور صرف نماز ، روزہ اخلاق مراقبہ ذکر و اذکار ذاتی محاسبہ کی حد تک اپنے آپ کو محدود نہیں رکھتا

یہ قران تسخیر کائنات کی کتاب ہے ۔

آج امت مسلمہ قران کو اپنا لے تو دنیا کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے

The most common sence book . merging book . Book of guidence . zBook of solotion your problem

یہ کتاب انسان اور انسانیت کو چلانے کے لیے آئی ہے ۔ یہ انسانیت کے اداروں کو چلانے کے لیے آئی ہے ۔

یہ قران کریم کو کپڑے میں لپیٹ کر رکھنے کا نہیں ہے ا۔ یہ سجانے کی کتاب نہیں ہے ۔ اور رحل یا اونچے جگہ پر رکھنے کی کتاب نہیں ہے یہ سجانے کی کتاب نہیں ہے ۔ یہ مسجد و ممبر کی حد تک کی کتاب نہیں ہے ۔

صرف عربی پڑھ کر ثواب حاصل کرنے کا کتاب نہیں ہے ۔یہ کتاب چومنے چاٹنے کا نہیں ہے

یہ سڑکوں شاہراہوں کی کتاب ہے ۔ یہ منڈیوں بازاروں ایوانوں کی کتاب ہے ۔

یہ کورٹ ، کچہری عدالتوں کی کتاب ہے یہ پارلیمینٹ ، سینٹ اوراقتدار کی ایونوں کی کتاب ہے ۔ یہ اداروں کی کتاب ہے ۔ یہ انسان اور انسانیت کی کتاب ہے ۔ یہ دینی اور دنیاوی کتاب ہے ۔ یہ قانون سازی کرنے کی کتاب ہے ۔ یہ دنیا کی الجھنوں کو سلجھانے کی کتاب ہے ۔

یہ سکون حاصل کرنے کی کتاب ہے ۔ یہ روزی روزگار کو حاصل کرنے کی کتاب ہے ۔ یہ دنیا کے تمام مسائل کو حل کرنے کی کتاب ہے ۔

شرط یہ ہے کہ ہم اس کتاب سے محبت کریں تو یہ کتاب ہم سے محبت کرے گی ۔

یہ ثواب حاصل کرنے کا ہی کتاب ہے ۔مگر کیسے لکھا ہے اس میں پڑھیں تو پتہ چلے گا ۔ کیسے خدمت کریں تو عزمت پائیں ۔


0 Comments

Leave a Reply

Avatar placeholder

Your email address will not be published. Required fields are marked *