جو مجرم گرفتار کئے جاتے ہیں ان سے تھانہ سے لے کر جیل تک بہتر سلوک کرنا چاہیئے ۔ سوائے عادی مجرمان کے ۔ مجرمان سے بہتر سلوک کرکے ان کو مفید اور کارآمد شہری بنایا جا سکتا ہے ۔ ان کو تشدد سے بچانے کے لیئے ایک ڈاکٹر سے ان کا جسمانی معائینہ یعنی میڈیکل چیک آپ کرا کے بہتر سلوک کی مثال قائم کی جا سکتی ہے ۔ جیل میں ان کو بہتر سہولتیں اور تعلیم وَ تربیت دینا چاہیئے تاکہ جب وہ جیل سے باہر نکلیں تو وہ اس معاشرے میں فیٹ ہو سکے ۔ جائز اور محنت کی روزی کما سکے ۔ اور وہ دوبارہ مجرم نہ بنے اس طرح ان کی اصلاح ہو سکتی ہے ۔ اور اس طرح معاشرے سے جرم اور جرائم کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔

اچھا سلوک مجرمان کو شریف اور نیک اور کار آمد شہری بنا سکتا ہے ۔ اسلام ظلم اور تششدد کی مزمت کرتا ہے ۔ اور بھلائی کی تر غیب دیتا ہے ۔ اور یہ ترغیب ہر سطح پر ہونا چاہیئے ۔ ان شاء اللّٰہ تعالیٰ ۔


0 Comments

Leave a Reply

Avatar placeholder

Your email address will not be published. Required fields are marked *