باہمی رنجیشوں سے رشتے کمزور ہو رہے ہیں : – آج کے اس جدید دور میں کوئی ایسا شخص ہے جسے کسی دوسرے سے کوئی گلہ یا شکایت نہ ہے ۔ کوئی رنجش نہ ہو ۔ ان شکوک و شبہات سے رشتوں کی مضبوط دیواروں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں ۔ باہمی تعلق کے گلستان اُجڑ رہے ہیں ۔محبتوں کے بندھن کمزور ہو رہے ہیں ۔ رویوں میں سختی آرہی ہے ۔ مزاج اور رویوں میں سرد مہری کی برف جم رہی ہے ۔ پریشانیاں اور ماتھے شکنوں سے اور شکووں سےبھرتی جا رہی ہیں ۔ کیا ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر ان ساری کیفیات کا سبب کیا ہے ؟ وجوہات کیا ہیں ؟ محبت کی مٹھاس کی جگہ تلخی کا زہر کیوں رشتوں کی رگوں میں اُتر رہا ہے ؟ خوشیاں بانٹنے والے اب دُکھ کیوں بانٹ رہے ہیں ؟ دُکھ کا باعث کیوں بن رہے ہیں ؟

کچھ تو سوچا ہی ہوگا ؟ آدمی کو اپنی بیماری کی وجہ سمجھ میں آہی جاتی ہے ۔یہ کوئی اتنا پیچیدہ مسلہ نہیں ہے ۔ یہ کوئی راکٹ سائینس کا فارمولہ بھی نہیں ہے ۔

اس کی وجہ بھی بڑی واضع ہے ۔اختلاف ، رنجش اور جھگڑے کی ایک ہی وجہ ہوتی ہے ۔ کسی کا حق نہیں دیا ہوتا یا کسی کا حق چھینا ہوتا ہے ۔ اور اپنا فرض نہیں ادا کیا ہوتا ۔

آج کے دور میں یہ فلسفہ ہر کسی کے ذہن میں جگہ بنا چکا ہے کہ دوسروں کو حق دینا نہیں اور اپنا حق چھوڑنا نہیں

یہی فساد کی بنیادی وجہ ہے ۔ فتنہ۔ فساد کی جڑ ہے ۔ بندوں کے حقوق پورے نہیں کیے جائیں گے اور ان کے حقوق پامال کئیے جائیں گے تو ان کے حقوق سے روگردانی کی جائے گی تو رشتے اور بندھن کمزور ہی ہوں گے ۔

حقوق اللہ اور حقوق العباد ایک تصویر کے دو رُخ

حقوق العباد ایک بندے پر اللہ کی طرف سے عائد کردہ دوسرے بندوں کے حقوق ہیںیہ ان کی ادائیگی کا نام ہے ۔ حقوق اللۃ اور حقوق العباد ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں ۔ دونوں حقوق ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ۔ایک حق کی ادائیگی سے دوسرا حق بھی ادا ہو جاتا ہے ۔ کیوں کہ بندوں کے حقوق ادا کرنے کا حکم اللۃ ربَ العزَت نے دیا ہے ۔ اور اللَۃ کا حکم مان کر ہم حقوق الَلہ پورے کرتے ہیں ۔

ہم حقوق العباد کا خیال کیوں نہیں رکھتے

ہم حقوق العباد کا خیال اس لیے نہیں رکھتے کہ ہمیں اس کا علم و شعور نہیں ہے ۔ اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہے ۔ ان حقوق و فرائض کے بنیفیٹ یا فائدے کا شعور نہیں ہے ۔ اندازہ نہیں ہے ۔

والدین کے حقوق کیا ہیں ؟ رشتےداروں کے حقوق کیا ہیں ؟ ہمسایوں اور پروسیوں کے حقوق کیا ہیں ؟ یتیم اور ٹور کے حقوق کیا ہیں ؟ غریب اور مسکینوں کے حقوق کیا ہیں ؟ یہ ہمیں معلوم ہونا چاہیے مگر افسوس ۔ سد افسوس ہم اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار ہیں ۔ مختلف جواز کے ساتھ ؟مسائل اور تلخیوں کو جنم دے رہے ہیں

حقوق العباد یک طرفہ عمل کا نام نہیں ہے

حقوق العباد کو ادا کرنا ایک طرفہ عمل نہیں ہے ۔ بلکہ دونوں فریقین کو اس کا خیال رکھنا چاہیے

خالی اپنے حق کو یاد نہ رکھیں بلکہ دوسروں کے حق کو بھی یاد رکھئیں ۔ حقوق العباد کے بیان کرنے کا مقصد اور مطلب یہ ہے کہ اپنا حق مانگنے سے پہلے دوسروں کے حق کا خیال رکھیں ۔

انسانی زندگیوں کو اپنے ارد گرد کے رشتوں کی اہمیت کا احساس ہونا چاہیے ۔دوسروں کی جگہ خود کو لاکر سوچو تب ہی رنجشیں ختم ہوں گی ۔ اپنے آپ کو اچھا بولنے کے بجائے، اپنے آپ کو اچھا صابت کرو ۔ اپنے اُ کو اچھا بناو ، اپنے ضمیر کے آئینے میں دیکھتے ہوئے ۔ اپنے ضمیر کی آواز سنو ۔ تب ہی زندگی سے رنجشیں دور ہوں گی ۔ انشا اللۃ تعلی۔


0 Comments

Leave a Reply

Avatar placeholder

Your email address will not be published. Required fields are marked *