مجبور لڑکی کی آواز*میرا نام رابعہ ہے۔ میں کراچی میں ایک کمپنی میں جاب کے لیے گئی تھی۔ میرا پہلا انٹرویو بہت اچھا ہوا تھا، انہوں نے مجھے دوسرے انٹرویو کے لیے بلایا۔ لیکن دوسرے انٹرویو سے پہلے اس شخص نے مجھے میسج کیا کہ آپ باہر کہیں مجھ سے مل لیں تو میں آپ کو انٹرویو کی تیاری کروا دوں گا۔ میں نے بہانہ بنا کر انکار کر دیا۔ انکار کے دوسرے دن ہی میرا انٹرویو روک دیا گیا۔میں سمجھ گئی تھی کہ جب تک میں اس سے باہر نہیں ملوں گی، میری جاب نہیں ہوگی۔ کچھ دن بعد اس نے پھر رابطہ کیا اور کہا کہ فائیو سٹار یا بورڈ آفس پر کسی ریسٹورنٹ میں آ جاؤ۔ جب میں نے لوکیشن پوچھی تو اس نے گلشن کی ایک ایسی جگہ بھیجی جس کا نام گوگل پر کہیں بھی نہیں تھا، بعد میں میرے کزن نے چیک کیا تو پتہ چلا وہ کوئی ریسٹورنٹ نہیں بلکہ ایک گیسٹ ہاؤس تھا۔اس کے بعد اس نے اپنی اصلیت دکھا دی۔ اس نے مجھے صاف کہا کہ اگر تم صبح سے شام تک میرے ساتھ رہو گی، میرے ساتھ فزیکل ریلیشن میں آؤ گی تو تمہیں جاب ملے گی، ورنہ یہ کمپنی تمہارے باپ کی نہیں ہے کہ تم سیدھا اندر آ جاؤ گی اور تمہیں جاب مل جائے گی۔میں آج کمپنی اور اس شخص کا نام اس لیے نہیں لے رہی کہ اس کمپنی سے بہت سے غریب لوگوں کا روزگار جڑا ہے، ایک گندے شخص کی وجہ سے سب کی روزی خراب ہو جائے گی۔ لیکن میں اس کی تمام چیٹس، تمام ثبوت اپنے پاس محفوظ رکھے ہوئے ہوں، اگر ضرورت پڑی تو میں اگلی ویڈیو میں سب کچھ دکھا دوں گی۔یقین کریں میں تین دن سے گھر سے باہر نہیں نکلی۔ میں خود کو بہت ہمت والی سمجھتی تھی، میری امی جب کہتی تھی دھیان سے جانا تو میں کہتی تھی کوئی مجھے ہاتھ لگا کر تو دیکھے۔ لیکن جب میرے ساتھ یہ ہوا تو میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی، میں اندر سے ٹوٹ گئی۔ میں نے اسی وقت اس جاب کو لات مار دی۔یہ کہانی صرف میری نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے میرے جیسی کتنی ہی لڑکیاں ہوں گی جو نوکری کی مجبوری میں، گھر کے حالات کی وجہ سے خاموش ہو جاتی ہوں گی، یہ سب سہہ لیتی ہوں گی اور کسی کو بتاتی بھی نہیں ہوں گی۔ اگر میری جگہ کوئی کمزور دل کی لڑکی ہوتی تو وہ شاید یہ سب سن کر خودکشی کر لیتی۔میں یہ آواز اپنے لیے نہیں، ان تمام لڑکیوں کے لیے اٹھا رہی ہوں۔ حکومت سے اور اس سسٹم سے میرا ایک ہی سوال ہے کہ کیا ہمیں جاب اسی قیمت پر ملے گی؟ یا تو ہمیں انصاف دیا جائے اور ایسے درندوں کے خلاف کارروائی کی جائے، یا پھر ہمیں یہ حق دیا جائے کہ جو ہم سے ایسی گھٹیا بات کرے ہم اسے بیچ چوراہے میں سبق سکھا سکھیں۔۔۔۔کراچی کی ایک لڑکی کی آواز
Categories: Uncategorized
0 Comments