آیت کریمہ: “انت مولٰنا فانصرنا” سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

عام طور پر علماء کرام کے لیے لفظ “مولانا” استعمال کیا جاتا ہے جو قرآن کریم کی سورۃ البقرہ کی اخیری آیت میں انت مولٰنا فانصرنا’ آخر تک آیا ہے۔

اللہ جل شانہ نے قرآنِ مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نسبت کرکے اپنے، جبریلِ امین اور  نیک مسلمانوں کے لیے یہ لفظ استعمال فرمایاہے،

چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

“{إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِير} .”[التحريم: 4]

ترجمہ :   اے (پیغمبر کی) دونوں بیبیو!  اگر تم اللہ کے سامنے تو بہ کرلو تو تمہارے دل مائل ہورہے ہیں، اور اگر (اسی طرح) پیغمبر کے مقابلہ میں تم دونوں کا روائیاں کرتی رہیں تو (یاد رکھو کہ) پیغمبر کا رفیق اللہ ہے اور جبرئیل (علیہ السلام) ہے اور نیک مسلمان ہیں اور (ان کے علاوہ) فرشتے (آپ کے) مددگار ہیں۔ (از بیان القرآن)

 یعنی بے شک اللہ تعالیٰ اورجبریل اور نیک اہلِ ایمان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ’’مولیٰ‘‘ ہیں۔

ہاں ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے بھی، فرشتے کے لیے بھی اور خواص اہلِ ایمان(یعنی نیکوکاروں)کے لیے بھی یہ لفظ استعمال فرمایاہے، جس سے معلوم ہواکہ جبریلِ امین اور تمام نیکو کار اہلِ ایمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مولیٰ (رفیق، دوست، ساتھی)ہیں، اور یہ لقب انہیں خود بارگاہِ ایزدی سے عطاہواہے۔ اس لیے لفظِ ’’مولیٰ‘‘ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔

مولیٰ :- عربی زبان کا لفظ ہے اس کا استعمال قرآنِ مجید، اور احادیثِ مبارکہ اورکلامِ عرب میں موجودہے، علماءِ عرب نے اس کے پچاس سے زائد معانی بیان کیے ہیں، عام لُغات میں بھی اس کے 17 سے زائد معانی بآسانی دست یاب ہیں، مثلاً : (1)   پروردگار ( 2 ) مالک آقا ( 3 ) کسی کام کا منتظم یا انجام دینے والا ( 4 ) مخلص دوست ( 5 ) ساتھی رفیق دوست وغیرہ ( 6 ) معاہدہ یا حلیف ( 7 ) آنے والا مہمان ( 8 ) پڑوسی (9) شریک اور ساجھی ( 10 ) جمائی یا داماد ( 11 ) باپ کی طرف سے رشتہ دار، جیسے: چچا یا چچا زاد بھائی ( 12 ) انعام دینے والا ( 13 ) انعام دیا جانے ولا ( 14 ) آزاد کردہ غلام ( 15 ) عام غلام ( 16 ) تابع، پیرو کار وغیرہ ( 17 ) غلام آزاد کرنے والا ۔

نیز محمّد صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ سے فرمایا :– أما أنت يا زيد فأخونا ومولانا۔  یعنی اے زید آپ ہمارے بھائی اور مولیٰ ہیں ۔

مولوی کی پانچ اقسام یا نام ہیں- نمبر :- 1-  روایتی مولوی۔ نمبر 2- سیاسی مولوی نمبر 3- مولوی ٹائپ مولوی – یہ اصطلاح میری نہیں ہے بلکہ اردو لُغت بورڈ سے لی گئی ہے۔ یہ ایسے مولوی کو کہا جاتا ہے جس نے حلیہ ”مولوی“ جیسا بنایا ہوا ہوتا ہے مگر کسی مدرسہ سے باقاعدہ تعلیم حاصل ہیں کی ہوتی ہے اور نہ ہی دینی علم کسی اور ذرائع سے حاصل کیا ہوتا ہے۔ مولوی بننے کے خواہش مند اس طرح کے حضرات مرد و خواتین میں یکساں طور پر پائے جاتے ہیں ۔ نظر آتے ہیں۔

نمبر 4 – لبرل مولوی :- اور نمبر 5 – سائینی مولوی: ۔

لیرل حضرات ہر اُس شخص کو مولوی کہہ گزرتے ہیں جو ظاہر سے مولوی نظر آئے اور روایت پسندی کا شکار ہو جبکہ دوسری طرف سائنس کو مذہب ماننے والے کچھ حضرات بھی بعض مقامات پر اِسی تعریف پر پُورے اترتے نظر آتے ہیں۔ اگر کوئی شخص سائنس کے کسی نظریے یا تھیوری پر سوال کر دے یا سمجھنے کی غرض سے تنقید و تشریح کرے تو صبر و برداشت سے عاری یہی چند لوگ سائنسی مولوی حضرات کو اپنےطعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں گویا یوں گمان کرنے لگتے ہیں کہ یہ سائنس کا دشمن ہے۔

روایتی مولوی:۔

مولوی ایک اسلامی خطاب ہے۔

مولوی ایک اسلامی نام و  خطاب ہے۔ لفظ مولوی، عربی زبان مولیٰ سے موخوذ ہے۔ جو اصلًا کسی شے کے مالک کو کہا جاتا ہے، چونکہ اسلام کا تصور یہ ہے کہ مالک حقیقی اللّہ سُبحان تعلی ہی ہے، اس لیے اس کے لفظی معنی اللہ سے متعلق یا اللہ والے کے ہیں۔ عام استعمال میں یہ لفظ عمومًا حفاظ یا علما اور دیگر مذہبی شخصیات کے لیے مستعمل ہے۔ یہ مولانا یا ملّا یا شیخ  کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مولوی سے عام طور سے مراد اعلٰی درجے کی قابلیت رکھنے والا اسلامی عالم ہے۔ اکثر مولوی حضرات کسی مدرسے سے یا مدرسہ جیسی جگہ سے یا دارُالعلوم سے فارغ التحصیل ہوئے ہوتے ہیں۔ کثرت علماء فارس یا وسط ایشیائی ممالک یا جنوبی ایشیا یا افریکی ممالک یا ایران  سے مُستفید ہوتے ہے۔

صوفیوں کی مولوی برادری جس کی تاسیس قونیا میں ترک  فارسی شاعر اور صوفی رہنما جلال الدین رومی متوی 1273 ) نے رکھی تھی، اس سلسلے میں یہ خطاب بہ کثرت استعمال ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ قونیا  اور اس کے اطراف و اکناف کے ماحول پر 15 یں صدی  میں غالب ہو گیا تھا اور 17 ویں صدی میں یہ استنبول تک بہنچ گیا تھا

کسی عالم دین کے لیے ہمارے ہاں احتراماً ’’مولانا‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے،  ’’مولانا‘‘ ، ’’ملّا‘‘ اور ’’مولوی‘‘ یہ الفاظ بالعموم اسلامی پیشواؤں کے لیے احترام و تعظیم کی غرض سے بولے جاتے تھے اور اب بھی شرفاء  کے ہاں تعظیم کے لیے ہی مستعمل ہیں۔ افغانستان اور آزاد ریاستوں نیز ترکی تک میں ’’دینی عالم‘‘ کو ازراہِ احترام یا علمی فراوانی  کی وجہ سے ’’ملا‘‘ یا ’’منلا‘‘ کہا جاتا تھا، ہمارے ہاں لفظ ’’علامہ‘‘اسی کے مترادف استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح خداترس ماہرِ علم کے لیے فارسی بولنے والے خطوں میں ’’مولوی‘‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا رہا ہے اور وہیں سے ہمارے ہاں بھی وارد ہوکر عام استعمال میں آچکا ہے، جیسے ’’مولوی معنوی‘‘ ، ’’مولوی عبدالحق‘‘ وغیرہ

Categories: مولوی

0 Comments

Leave a Reply

Avatar placeholder

Your email address will not be published. Required fields are marked *