سنت بھری زندگی، سنتوں کی پابندی، رسول اللّہ ﷺ سے محبت کی علامت، سنت کی پابندی اور اسلاف کا طریقہ، ہماری زندگی میں کردار، سنت اور حدیث مبارکہ میں فرق۔
سنت
سنت ہی راہِ نجات ہے! ترکِ سنت اور سنت کو ہلکا سمجھنے کا انجام دین سے دوری۔
نماز کو سنتوں اور مستحبات کی مکمل پابندی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔
سنتوں کی پابندی
*سنتوں کی پابندی دین 📚کی تکمیل ہے:- ✍🏻 امام قرطبی رحمہ اللّہ فرماتے ہیں:”جو شخص ہمیشہ سنتوں کو چھوڑنے کا عادی بن جائے، یہ اُس کے دین میں کمی کی علامت ہے۔”اس پر حافظ ابن حجر رحمہ اللّہ تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”صحابۂ کرام رضی اللّہ عنہم اور ان کے بعد آنے والے سلفِ صالحین سنتوں کی پابندی اسی اہتمام سے کرتے تھے جس طرح فرائض کا اہتمام کرتے تھے۔ اور ثواب حاصل کرنے کے اعتبار سے وہ دونوں کے درمیان فرق نہیں کرتے تھے۔
رسول اللّہ ﷺ سے محبت کی علامت
فتح الباري (3/312) *فوائد و اسباق:* سنتوں کی دائمی پابندی مومن کی دین داری اور رسول اللّہ ﷺ سے محبت کی علامت ہے۔بلا عذر سنتوں کو ہمیشہ ترک کرتے رہنا دین میں کمزوری کی نشانی ہے۔سلفِ صالحین فرائض کے ساتھ ساتھ سنن و نوافل کی بھی بھرپور حفاظت کرتے تھے۔ اگرچہ فرائض اور سنن کا حکم ایک جیسا نہیں، لیکن سنتوں کی پابندی فرائض کی تکمیل، درجات کی بلندی اور اللّہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا عظیم ذریعہ ہے۔
اطاعت رسول ﷺ
شریعت میں سنتوں کی پابندی گناہوں سے بچنے، اللّہ کی محبت اور حضور ﷺ سے دلی لگن کی علامت ہے۔ اطاعت رسول ﷺ ہے۔ یہ نہ صرف روحانی بلندی کا ذریعہ ہیں بلکہ فرض عبادات میں ہونے والی کمیوں کی تلافی بھی کرتی ہیں رسول اللّہ ﷺ نے فرمایا۔ “جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھے اور ظہر کی نماز کی پابندی کا مطلب زندگی کے ہر معاملے میں عبادت سے لے کر اخلاق و عادات تک میں آپ ﷺ کی تعلیمات کو ترجیح دینا ہے۔
سنتوں کی پابندی اور اسلاف کا طریقہ
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سنت کو ترک کرنے یا معمولی سمجھنے کے انجام سے خبردار کرتے ہیں۔
جو شخص آداب میں سُستی کرتا ہے، وہ سنت سے محرومی کی مصیبت میں مبتلا کیا جائے گا اور جو سنت میں سُستی کرتا ہے اور اُسے ہلکا سمجھتا ہے، وہ فرائض کے چھوٹنے کی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے۔
حضرت جنید بغدادی کا فرمان؟
حضرت جنید بغدادی رَحِمَهُ اللّہ فرماتے ہیں کہ مخلوق پر تمام راستے بند ہیں سوائے اس راستے کے جو رسول اکرم ﷺ کا ہے۔ آپ ﷺ کے راستے کی پیروی کر اور آپ کی سنت کی پابندی کر نتیجتاً تم پر خیر کے تمام راستے کھل جائیں گے۔
سنت بھری زندگی؟
سنت بھری زندگی گزارنے کا مطلب نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور طریقوں کو اپنی روزمرہ کی عادات کا حصہ بنانا ہے۔ اس میں عبادات (نماز، روزہ) کے ساتھ ساتھ اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے، سونے جاگنے اور معاملاتِ زندگی کو شریعت کے مطابق ڈھالنا شامل ہے، جس سے سکون اور روحانی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔
سنت کی اہمیت پر علما کی رائے
امیر اہلسنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری اپنی تحریروں اور بیانات میں اسلامی اور سنتوں بھری زندگی گزارنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں。 ان کی تعلیمات کے مطابق سنتوں پر عمل نہ صرف اخلاقی اور روحانی بلندی کا باعث بنتا ہے بلکہ اس میں دنیوی اور طبی فوائد بھی پوشیدہ ہیں۔
محمد صلَّی اللّہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زندگی سنت ہے
حضور صلَّی اللّہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زندگی میں ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے، صرف نمونہ نہیں صرف بہتر بھی نہیں بلکہ بہترین نمونہ ہے۔جب کہ آج جس کو اہمیت دی جارہی ہے میری مراد سائنس جب اس کی اپنے کو پہنچتی ہیں تحقیق کی تکمیل ہوتی تو بہت
سنت کا ہماری زندگی میں کردار؟
سنت:– سنت کا ہماری زندگی میں کردار انتہائی بنیادی اور اہم ہے。یہ ہمیں عبادات، اخلاقیات اور معاملات سمیت زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے。 نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں (سنت) پر عمل کرنے سے نہ صرف فرائض میں رہ جانے والی کمی پوری ہوتی ہے، بلکہ انسان بدعت سے محفوظ رہتا ہے۔
سنت کی اہمیت کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے درج ذیل پہلوؤں پر غور کیا جا سکتا ہے:۔
نمبر:- 1- اتباع اور کامل نمونہ: سنت دراصل اسوہ حسنہ ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ حقوق اللّہ اور حقوق العباد کس طرح ادا کرنے ہیں۔ نمبر :- 2 روحانی اور اخلاقی تربیت: سنت پر عمل کرنے سے ضبطِ نفس پیدا ہوتا ہے اور انسان اللّہ تعالیٰ کی محبت کا حقدار بن جاتا ہے۔ نمبر :- 3- شریعت کی تفہیم: قرآن مجید کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لیے ہمیں سنت کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ محمد عربی ﷺ نے ان احکامات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کر کے دکھائی۔
سنت کا خلاصہ؟
سنت سے مراد پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کا طریقہ، اقوال، افعال اور خاموش منظوری ہے۔ سنت قرآنِ مجید کے بعد اسلامی شریعت کا دوسرا بنیادی ماخذ ہے۔ سنت کی اطاعت مسلمانوں پر فرض ہے اور اس کا بنیادی مقصد احکامِ الٰہی کو عملی شکل میں سمجھنا اور زندگی گزارنے کا بہترین نمونہ اپنانا ہے۔
سنت کی بنیادی اقسام درج ذیل ہیں:۔
پہلا:- سنتِ قولی: نبی ﷺ کے مبارک ارشادات و اقوال ہیں۔ دوسرا:- سنتِ فعلی: آپ ﷺ کے وہ تمام اعمال اور طریقے جو آپ ﷺ نے ادا فرمائے مثلاً نماز اور حج وغیرہ کا طریقہ۔ تیسرا :- سنتِ تقریری: صحابہ کرامؓ کے وہ اعمال جو انہوں نے کیے اور نبی ﷺ نے انہیں خاموشی سے جائز قرار دیا یا سراہا۔
عبادات، معاملات، اور سیرت و اخلاق وغیرہ سنت کے مطابق؟
سنتِ نبوی ﷺ کے تین اہم ترین پہلو درج ذیل ہیں جو زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں:
نمبر: -1۔ عبادات (Worship)
قرآن کی تشریح:- سنت قرآنی احکامات کو عملی شکل دیتی ہے (مثلاً قرآن میں نماز کا حکم ہے، لیکن سنت نے اس کے اوقات اور رکعات بتائیں۔
طریقہ کار کی وضاحت: حج، روزہ اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے تفصیلی طریقے نبی ﷺ کے عمل سے ثابت ہیں۔ اعتدال پسندی: عبادات میں حد سے تجاوز کرنے یا سختی کرنے سے منع کرنا۔
۔نمبر – 2۔ معاملات اور معاشرت (Social & Financial Dealings)
تجارت کے اصول:– کاروبار میں سچائی، امانت داری، اور دھوکہ دہی و سود سے بچنے کی سخت تاکید۔ حقوق العباد:– والدین، بچوں، شریکِ حیات، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی۔ انصاف کا قیام:– معاشرے میں امیر اور غریب کے لیے ایک ہی جیسے عادلانہ قانون کا نفاذ۔
نمبر -3۔ سیرت و اخلاق؟ (Character & Ethics)
حسنِ اخلاق: عام زندگی میں عاجزی، بردباری، سچائی اور امانت داری کا بہترین نمونہ پیش کرنا۔ عفو و درگزر: دشمنوں اور بدسلوکی کرنے والوں کو معاف کر دینا جیسے فتح مکہ کے موقع پر عام معافی۔ رحمت و شفقت: بچوں پر شفقت، بزرگوں کا احترام، اور جانوروں کے ساتھ بھی نرمی کا برتاؤ۔
سنت اور حدیث مبارکہ میں فرق؟
عام طور پر سنت اور حدیث کو ایک ہی معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، لیکن علمی اور فنی لحاظ سے ان دونوں میں کچھ اہم فرق موجود ہیں:۔
نمبر 1۔ بنیادی مفہوم؟ (Basic Meaning)
حدیث:- اس سے مراد نبی کریم ﷺ کا کوئی قول (بات)، فعل (عمل)، یا تقریر (خاموشی سے منظوری) ہے جو زبانی یا تحریری طور پر ہم تک پہنچی ہو۔
سنت:- اس سے مراد نبی کریم ﷺ کا وہ دائمی طریقہ یا طرزِ زندگی ہے جس پر آپ ﷺ نے خود عمل کیا اور صحابہ کرامؓ کو اس پر چلنے کا حکم دیا۔
نمبر 2- ریکارڈ بمقابلہ عمل (Record vs Practice)
حدیث ایک ریکارڈ ہے:- حدیث دراصل ایک تاریخی معلومات کا نام ہے جو کتابوں میں محفوظ ہے مثلاً بخاری یا مسلم شریف اور دیگر حدیث کی کتابیں۔
سنت ایک عملی نمونہ ہے:– سنت سے مراد وہ دین ہے جو عمل کی شکل میں نظر آتا ہے۔ ہر حدیث لازمی طور پر سنت نہیں ہوتی مثلاً آپ ﷺ کا کسی خاص موقع پر کوئی عمل کرنا جو عام مسلمانوں کے لیے دائمی قانون نہ ہو۔
ماخذ اور منتقلی؟ (Transmission) Generation to Generation نمبر 3- تسلسل سے آیا ہو
حدیث کی منتقلی:- حدیث راویوں (بیان کرنے والوں) کے ایک سلسلے (سند) کے ذریعے ہم تک زبانی یا تحریری طور پر پہنچی۔ سنت کی منتقلی:- سنت پوری اُمت محمدیہ کے عملی تسلسل کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے۔ جیسے نماز کا طریقہ جو شروع سے لے کر آج تک نسل در نسل عملاً منتقل ہو رہا ہے۔
حدیث کی کچھ عملی مثالیں دے سکتا ہوں، یا پھر صحیح اور ضعیف حدیث کے فرق پر بات کر سکتے ہیں۔
0 Comments