اللّہ تعالیٰ جس بندے سے بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں، اس کے اپنے سینے میں ایک ایسا واعظ عطاء کر دیتے ہیں، جو اسے اللّہ تعالی کی نافرمانی سے روکتا ہے اور اُس کی اطاعت پر ابھارتا ہے۔
✿ اللّہ تعالیٰ فرماتے ہی:۔ّ
وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ
’’اور میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔‘‘ (سورۃ القیامۃ : ٢)
⇚ امام حسن بصری رحمہ اللہ (١١٠هـ) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :۔”إِنَّ الْمُؤْمِنَ وَاللَّهِ مَا نَرَاهُ إِلَّا يَلُومُ نَفْسَهُ: مَا أَرَدْتُ بِكَلِمَتِي؟ مَا أَرَدْتُ بِأَكْلَتِي؟ مَا أَرَدْتُ بِحَدِيثِ نَفْسِي؟ وَإِنَّ الْفَاجِرَ يَمْضِي قُدُمًا مَا يُعَاتِبُ نَفْسَهُ ’اللہ کی قسم! مومن کو ہم ہمیشہ اپنے نفس کو ملامت کرتے ہی دیکھتے ہیں۔ میری اس بات سے کیا مقصد تھا؟ اس لقمے سے کیا مقصد تھا؟ دل میں آنے والی اس بات سے کیا مقصد تھا؟ اور فاجر آگے ہی آگے بڑھتا جاتا ہے، اپنے نفس کو کبھی نہیں ٹوکتا۔‘‘ (الزهد لأحمد، صـ ٢٢٨)
✿اور اللّہ تعالیٰ فرماتے ہیں :۔
بَلِ الْإِنسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ
’’بلکہ انسان اپنے آپ کو خوب جانتا ہے، چاہے کتنے ہی بہانے پیش کرے۔‘‘ (سورۃ القیامة : ١٤-١٥)
✿ سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔
«ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا، وَعَلَى جَنْبَتَيِ الصِّرَاطِ سُورَانِ، فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ، وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ مُرْخَاةٌ، وَعَلَى بَابِ الصِّرَاطِ دَاعٍ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ادْخُلُوا الصِّرَاطَ جَمِيعًا وَلَا تَتَعَرَّجُوا، وَدَاعٍ يَدْعُو مِنْ فَوْقِ الصِّرَاطِ، فَإِذَا أَرَادَ يَفْتَحُ شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ، قَالَ: وَيْحَكَ لَا تَفْتَحْهُ، فَإِنَّكَ إِنْ تَفْتَحْهُ تَلِجْهُ، وَالصِّرَاطُ الْإِسْلَامُ، وَالسُّورَانِ حُدُودُ اللهِ، وَالْأَبْوَابُ الْمُفَتَّحَةُ مَحَارِمُ اللهِ، وَذَلِكَ الدَّاعِي عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ كِتَابُ اللهِ، وَالدَّاعِي مِنْ فَوْقِ الصِّرَاطِ وَاعِظُ اللهِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُسْلِمٍ».
’’اللہ تعالیٰ نے ایک سیدھے راستے کی مثال بیان فرمائی ہے: راستے کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں، ان میں۔ دروازے کھلے ہیں، دروازوں پر پردے لٹکے ہیں، راستے کے سرے پر ایک پکارنے والا کہہ رہا ہے: لوگو! سب سیدھے راستے میں داخل ہو جاؤ اور ادھر ادھر نہ مڑو۔ اور ایک پکارنے والا راستے کے اوپر سے پکارتا ہے، جب کوئی ان دروازوں میں سے کسی کو کھولنا چاہتا ہے تو کہتا ہے: تیرا برا ہو! اسے نہ کھول، اگر کھولا تو اندر چلا جائے گا۔ سیدھا راستہ اسلام ہے، دیواریں اللہ کی حدیں ہیں، کھلے دروازے اللہ کی حرام کردہ چیزیں ہیں، راستے کے سرے پر پکارنے والا اللہ کی کتاب ہے، اور اوپر سے پکارنے والا ہر مسلمان کے دل میں اللہ تعالی کی طرف سے مقرر کردہ واعظ ہے۔‘‘ (مسند أحمد – ط الرسالة: ٢٩/١٨١)
✿۔ سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا :۔
«الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ».
’’نیکی اچھا اخلاق ہے، اور گناہ وہ ہے جو آپ کے سینے میں کھٹکے، اور آپ کی ناگوار ہو کہ لوگ اس پر مطلع ہوں۔‘‘ (صحيح مسلم : ٢٥٥٣)
⇚ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ (٧٥١هـ) سیدنا نواس رضی اللہ عنہ کی حدیث ذکر کر کے فرماتے ہیں :
“فَهَذَا الْوَاعِظُ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ هُوَ الْإِلْهَامُ الْإِلَهِيُّ بِوَاسِطَةِ الْمَلَائِكَةِ.”
’’مومنوں کے دلوں میں یہ واعظ دراصل اللہ تعالی کی طرف سے فرشتوں کے واسطے سے ڈالا جانے والا الہام ہے۔‘‘ (مدارج السالكين – ط عطاءات العلم : ١/٧٤)
⇚ امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ (١١٠هـ) فرماتے ہیں :
“إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَاعِظًا مِنْ قَلْبِهِ يَأْمُرُهُ وَيَنْهَاهُ.”
’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے دل میں سے ایک واعظ بنا دیتے ہیں جو اسے (نیکی کا) حکم دیتا ہے اور (برائی سے) روکتا ہے۔‘‘ (الزهد لأحمد، صـ ٢٤٨)
اور امام ابن سیرین رحمہ اللہ ہی سے یہ الفاظ بھی منقول ہیں کہ کہا جاتا تھا:۔
” إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا أَرَادَ الْخَيْرَ كَانَ لَهُ زَاجِرًا مِنَ اللَّهِ يَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ.”
’’آدمی جب بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالی کی طرف سے اس کے لیے ایک روکنے والا ہوتا ہے جو اسے نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہے۔‘‘ (الزهد لأحمد، صـ ٢٥٠)
امام ابو قلابہ جرمی رحمہ اللہ (١٠٤هـ) فرماتے ہیں :۔
مَا مِنْ أَحَدٍ يُرِيدُ خَيْرًا أَوْ شَرًّا إِلَّا وَجَدَ فِي قَلْبِهِ آمِرًا وَزَاجِرًا، آمِرًا يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ، وَزَاجِرًا يَنْهَى عَنِ الشَّرِّ
’’جو شخص بھی بھلائی یا برائی کا ارادہ کرتا ہے، وہ اپنے دل میں ایک حکم دینے والا اور ایک روکنے والا ضرور پاتا ہے: حکم دینے والا بھلائی کا حکم دیتا ہے اور روکنے والا برائی سے روکتا ہے۔‘‘ (حلية الأولياء لأبي نعيم : ٢/٢٨٣)
⇚ امام حسن بصری رحمہ اللہ (١١٠هـ) فرماتے ہیں:۔
“رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا وَقَفَ عِنْدَ هَمِّهِ، فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ مَضَى، وَإِنْ كَانَ لِغَيْرِهِ تَأَخَّرَ.
’’اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائیں جو کسی کام کے ارادے کے وقت ٹھہر جاتا ہے، اگر وہ اللہ تعالی کے لیے ہو تو آگے بڑھتا ہے، اور اگر کسی اور کے لیے ہو تو پیچھے ہٹ جاتا ہے۔‘‘ (شعب الإيمان للبيهقي : ٥/٤٥٨)
0 Comments