پارلیمانی جمہوریت

جمہوری حکومت کا ایک نظام ہے جس میں مجلس عاملہ کے وزراء پارلیمنٹ اور مقننہ کو جوابدہ ہوتے ہیں۔

ارلیمانی نظام ایک ایسا نظام حکومت ہے جس میں ایک کابینہ بالواسطہ یا بلا واسطہ ایک پارلیمنٹ کے تحت کام کرتی ہے۔ اس نظام میں اختیارات عموما وزیر اعظم کے پاس ہوتے ہیں۔ اس نظام میں صدر تو ہوتا ہے مگر صدر کے اختیاراتت بہت کم ہیں اور وزیر اعظم کے سب سے زیادہ اختیارات ہوتے ہیں۔ اس وقت وزیر اعظم شہباز شریف ہیں۔

پارلیمانی نظام یا پارلیمانی جمہوریت:۔

پارلیمانی نظام یا پارلیمانی جمہوریت ایک ایسا سیاسی نظام ہے جس میں حکومت کی تشکیل اور اس کی کارکردگی براہ راست پارلیمنٹ یا مجلس قانون ساز کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔ اس نظام کی اہم خصوصیات میں شامل ہیں:

  1. پارلیمنٹ کا غالب کردار: حکومت کی تشکیل اور اس کی بقا کا انحصار پارلیمنٹ کے اعتماد پر ہوتا ہے۔ وزیراعظم اور کابینہ پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔
  2. وزیراعظم کا انتخاب: وزیراعظم عام طور پر پارلیمنٹ کے ارکان میں سے منتخب کیا جاتا ہے، اور وہ پارلیمنٹ کی اکثریت کی حمایت سے منتخب ہوتا ہے۔
  3. دوہری قیادت: پارلیمانی نظام میں سربراہ ریاست (صدر یا بادشاہ) اور سربراہ حکومت (وزیراعظم) کے عہدے الگ الگ ہوتے ہیں۔ سربراہ ریاست عموماً رسمی اور علامتی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ حکومت کے روزمرہ امور وزیراعظم اور ان کی کابینہ چلاتی ہے۔
  4. کابینہ کی مشترکہ ذمہ داری: کابینہ کے تمام اراکین مشترکہ طور پر پارلیمنٹ کے سامنے اپنی کارکردگی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اگر پارلیمنٹ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور کر لے تو پوری کابینہ مستعفی ہو جاتی ہے۔
  5. لچکدار اور مضبوط پارلیمانی عمل: پارلیمانی نظام میں قانون سازی کا عمل تیزی سے انجام پاتا ہے کیونکہ حکومت اور پارلیمنٹ کے درمیان قریبی تعاون ہوتا ہے۔

پارلیمانی نظام کی مثالیں:۔

دنیا کے مختلف ممالک میں پارلیمانی نظام کامیابی سے چل رہا ہے، جن میں برطانیہ، بھارت، کینیڈا، اور جرمنی شامل ہیں۔

پارلیمانی نظام کے فوائد؟

  • سیاسی استحکام: پارلیمانی نظام میں حکومت پارلیمنٹ کی حمایت پر انحصار کرتی ہے، اس لیے یہ نظام عموماً زیادہ سیاسی استحکام فراہم کرتا ہے۔
  • جمہوریت کی مضبوطی: عوامی نمائندے براہ راست حکومت میں شامل ہوتے ہیں، جس سے جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔
  • لچکدار حکومت: اگر حکومت ناکام ہو جائے، تو اسے تبدیل کرنا آسان ہوتا ہے کیونکہ پارلیمنٹ نئی حکومت بنا سکتی ہے۔

پارلیمانی نظام کے نقصانات؟

  • بار بار انتخابات کا امکان: اگر پارلیمنٹ میں کوئی پارٹی اکثریت حاصل نہ کر سکے یا اتحادی حکومت ٹوٹ جائے، تو بار بار انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
  • کبھی کبھی غیر مستحکم حکومتیں: بعض اوقات، مخلوط حکومتیں غیر مستحکم ہو سکتی ہیں اور ان میں فیصلہ سازی کا عمل سست ہو سکتا ہے۔

پارلیمانی نظام جمہوریت کے اصولوں پر مبنی ایک متوازن اور شفاف نظام ہے جو عوامی خواہشات کی عکاسی کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔


0 Comments

Leave a Reply

Avatar placeholder

Your email address will not be published. Required fields are marked *