حوصلہ بلند ہونا چاہیئے عروج و زوال زندگی کا حصہ ہے۔

انقلاب کہاں آتے ہیں؟ انقلاب وہاں آتے ہیں جہاں ظلم کرنے والا کوئی ایک ہوتا ہے مگر جہاں ہر شخص اپنے اپنے حصے کا ظلم کر رہا ہو وہاں انقلاب نہیں آتے بلکہ وہاں عذاب آتے ہیں، کیا ایسا ہی ہوتا ہے؟

یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ انقلاب وہاں آیا کرتے ہیں جہاں ظلم کرنے والا کوئی ایک یا چند افراد ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں بے قصور اور پیسے ہوئے عوام اپنے خلاف ہونے والے معاشرتی نا نا ہمواری اور نا انصافی کے خلاف عوام اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ اور ایسی ہی صورت میں ملک میں ایک منظم تحریک پیدا ہوتی ہے جو ظلم و ستم کے نظام کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

لیکن جہاں ہر شخص اپنے اپنے حصے کا ظلم کر رہا ہو، وہاں معاشرتی بگاڑ اور بدعنوانی زیادہ عام ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں معاشرتی بگاڑ کی شدت کی وجہ سے ایک مجموعی تباہی یا عذاب کا ان کو سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ اصلاح اور بہتری کی کوششیں مشکل ہو جاتی ہیں۔

اس طرح کے حالات میں، انفرادی اور اجتماعی سطح پر اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ سماج میں معاشرتی انصاف اور امن قائم ہو سکے۔ اگر ہر شخص اپنے حصے کا ظلم چھوڑ کر اصلاح کی طرف قدم بڑھائے تو معاشرتی بگاڑ کو روکا جا سکتا ہے اور بہتری کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ مگر بلّی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟

انقلاب وہاں آتے ہیں جہاں ظالم اور مظلوم الگ الگ ہوں؟

انقلاب عام طور پر وہاں آتے ہیں جہاں ظلم و ستم اور عدم انصاف زیادہ ہو، انصاف کا نام و نشان نہ ہو اور لوگ ان حالات کے خلاف متحد ہو کر متفقہ جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ تاہم یہ ضروری نہیں کہ ہر انقلاب کے پیچھے یہی وجہ ہو۔ بعض اوقات انقلاب کا سبب معاشی اور اقتصادی مسائل، سیاسی عدم استحکام، اور دیگر بے پناہ معاشرتی مشکلات کا عوام سامنا کر ریے ہوں۔ب

بعض اوقات ظالم اور مظلوم کی واضح فرق نہیں ہوتی، بلکہ معاشرتی تبدیلی کے خواہاں لوگ ایک ہی طبقے یا ایک ہی ڈگڑ پر ہوتے ہیں اور ایک ہی گروہ سے عوام و خواص کا تعلق ہوتا ہے۔ انقلاب کا اصل مقصد اکثر اوقات موجودہ نظام کی تبدیلی اور بہتر مستقبل کی تلاش ہوتا ہے۔

Categories: انقلاب

0 Comments

Leave a Reply

Avatar placeholder

Your email address will not be published. Required fields are marked *